خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 34
خطابات ناصر جلد دوم ۳۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء ہم نے پکڑا ہے اور جس کے ہاتھ کو ہم نے تھاما ہے اور اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور جس سے ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس کے ہو گئے اور اسی کے ہو کے رہیں گے۔وہ ساری طاقتوں والا ہے اور جو کچھ ہمیں چاہئے وہ ہم اپنے لئے تو نہیں مانگ رہے بلکہ وہ تو ہمیں اس کی مخلوق کے لئے درکار ہے۔ہمیں جو کچھ چاہئے وہ نوع انسانی کی خاطر چاہئے۔خدا کی توحید کے قیام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کو دلوں میں پیدا کرنے کے لئے چاہئے۔ذاتی طور پر مجھے کیا چاہئے یا ایک انسان کو کھانے کے لئے کس قدر خوراک درکار ہے۔مثلاً میں صرف آدھا پھلکا یا نصف چپاتی کھاتا ہوں اور میرا پیٹ بھر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بے تکلف طبیعت دی ہے۔جوانی کے دنوں کی باتیں ہیں کہ کئی دفعہ احمدیوں کے ہاں دیہات میں جھگڑا پیدا ہو جاتا تھا۔جن کا جھگڑا ہوتا تھا ان کو باہر کھیتوں میں لے جا کر جہاں ہل وغیرہ چلا ہوا ہوتا تھا اور زمیں نرم ہوتی تھی ، میں اس پر چوکڑی مار کر بیٹھ جاتا تھا اور کہتا تھا کہ آؤ باتیں کریں۔تو ہماری زندگی بڑی بے تکلف اور کھلی زندگی ہے۔خدا تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ نکلوا دیا ہے مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ( م :۸۷) لیکن اگر تم تکلف کرو گے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اختیار نہیں کر سکو گے۔اس لئے میں کہا کرتا ہوں کہ ہماری زندگی میں کوئی تکلف نہیں ہونا چاہئے۔کئی دفعہ بیماری میں لیٹا ہوا ہوتا ہوں کہ باہر سے کوئی دوست ملنے آجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابھی ملنا ہے انہیں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ میں بیمار پڑا ہوا ہوں۔ابھی پرسوں شام کی بات ہے کہ ہماری کچھ امریکن بہنیں ملنے آئیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی ملنا ہے۔میں بیماری کی وجہ سے لیٹا ہوا تھا۔جب اجازت ملنے پر وہ منصورہ بیگم کے ساتھ کمرے میں آئیں تو کہنے لگیں کہ ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ بیمار ہیں تو ہم ملنے نہ آئیں میں نے دل میں کہا تمہیں کیوں پتہ ہوتا۔میں نے جب تکلف نہیں کیا تو تم تکلف - کیوں کام لیتی ہو۔اسی طرح آج صبح امریکن دوست ملنے کے لئے آگئے۔اس وقت میری طبیعت بہت ناسا تھی میں نے اسی حالت میں ان سے کہا ٹھیک ہے، ملنے کے لئے آجائیں۔چناچہ ان سے ملاقات کی۔کئی اور دوستوں سے بھی ملاقات کی۔پس ہم بے تکلف ہیں۔ہماری زندگی میں کوئی تکلف نہیں ہے۔ہمیں نہ کوئی فخر ہے اور نہ کوئی بڑائی۔نہ ہمیں کپڑوں کا شوق ہے اور نہ کھانے