خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 33
خطابات ناصر جلد دوم ۳۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء مبلغ نہیں گیا۔وہاں سے ایک دن ایک دوست کا خط آگیا کہ ہم اس شہر میں آٹھ دس افراد احمدی ہو گئے ہیں۔ہم نے جماعت بنالی ہے ہمیں کچھ پتا نہیں کہ جماعت احمدیہ کا نظام کیا ہے اور بحیثیت جماعت ہمیں کیسے کام کرنا ہے۔بہر حال ہم نے جماعت بنالی ہے اور میں کوشش کروں گا کہ ربوہ آؤں اور نظام سلسلہ کے متعلق واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کروں۔اب یہ میری یا آپ کی کوشش کا نتیجہ تو نہیں ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ نے پتہ نہیں کیسے انتظام کر دیا۔ہمیں تو یہ بھی علم نہیں کہ وہ احمدیت سے روشناس کس طرح ہوئے لیکن جماعت قائم ہوگئی ہے۔پھر کمیونسٹ ممالک ہیں۔ان کے متعلق دنیا میں ایک شور مچا ہوا تھا Iron Curtain !Iron Curtain گویا کہ لوہے کی دیوار ہے جو ان کے اور باہر کی دنیا کے درمیان حائل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کو تو لوہے کی دیواریں نہیں روکا کرتیں۔مثلاً یوگوسلاویہ بھی ایک کمیونسٹ ملک ہے۔وہاں سے دو احمدی نوجوان جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔تو یوگوسلاویہ میں بھی احمدیت پہنچ گئی ہے۔یوگوسلاویہ کا ایک بہت بڑا عالم جو کہ وہیں پہ رہتا تھا اس نے بیعت کر لی اور اس نے وہاں احمدیت کو پھیلایا۔اسی طرح پولینڈ سے ایک خط آگیا کہ ہم کچھ لوگ احمدی ہو گئے ہیں۔فالحمد للہ علی ذلک یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے پتہ نہیں کہاں کہاں تک اللہ تعالیٰ کے فرشتے احمدیت کو پھیلا رہے ہیں۔ہمیں تو سمجھ ہی نہیں آرہی۔اللہ تعالیٰ ہماری جھولیاں ثواب سے بھر رہا ہے۔یہ تو اس کی شان ہے لیکن ہماری شان یہ ہونی چاہئے کہ ہمارے سر زمین سے کبھی نہ اُٹھیں اور کبھی بھی ہمارے دلوں میں فخر اور غرور اور کبر پیدا نہ ہو۔یہ ہے جماعت احمدیہ کی اصلی حیثیت اور حقیقی شان۔بعض دفعہ کئی لوگ ہمارے سامنے کہہ دیتے ہیں کہ ہم بہت بڑے لوگ ہیں مگر آپ کچھ بھی نہیں۔میں جواب دیا کرتا ہوں کہ ہاں جی ! تم بہت بڑے لوگ ہوا اور ہم تو اتنے بھی نہیں جتنے تم سمجھتے ہو۔ہم تو نیست محض ہیں۔ہم تو لاشی محض ہیں۔مگر جس ذرہ نا چیز کو خدا تعالیٰ نے اپنے دست قدرت میں پکڑا اور کہا کہ میں اس ذرہ ناچیز کے ذریعہ سے اسلام کو دنیا میں غالب کروں گا تو دنیا کی کونسی طاقت ہے جو خدائے قادر و توانا کو اس کے ارادوں سے روک دے۔پس ہم تو کچھ نہیں ہیں۔ہمارا یہ معیار ہے اور تم اسے قائم رکھو لیکن جس عظیم ہستی کے دامن کو