خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 406
خطابات ناصر جلد دوم ۴۰۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء اور ذہین ہوگا اور غریب ہوگا تو اس کو جماعت سنبھال لے گی لے کے پالے گی نہیں۔سنبھال لے گی اور میں نے اندازے لگوائے تو اگر بورڈنگ میں رہے پرائمری پاس لڑکا یعنی اپنے گھر میں وہ نہیں رہ سکتا کسی وجہ سے تو اس کا ایک سو باون روپے ماہانہ خرچ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قریباً دو ہزار سالانہ خرچ ہوتا ہے اور دہم تک اسی طرح چلتا ہے قریباً اور کالج میں (گیارھویں بارہویں میں ) قریباً دوسو پچھپیں ماہانہ خرچ ہے اور یہی تھر ڈائیر اور فورتھ ائیر میں اور ایم اے۔ایم ایس سی میں تین سو ساٹھ روپے ماہانہ خرچ ہے۔یہ ہم نے اندازہ لگایا ہے کچھ باہر کی جماعتوں کو بھی کو خدا تعالیٰ نے تحریک کر دی میرے ذہن کی رو کے ساتھ ہی مثلاً قریباً بیس پچیس ہزار کے وظائف کا وعدہ کر لیا انگلستان کی جماعت نے۔میں اس وقت جو اعلان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی طرف سے اس نئی سکیم میں سوالاکھ روپے سال کے وظیفے دیں گے۔یہ وہ طلبہ ہیں جو Genius سے ذرا نیچے ہیں۔جو Genius ہے یعنی غیر معمولی طور پر ذہین بچہ اُس کا پتہ لگ جاتا ہے بعض دفعہ پرائمری میں بھی۔خدا اگر ہمیں ایک ہزار ایسا بچہ دے گا تو جماعت آدھی روٹی کھائے اور اُن کو پڑھائے اور پڑھائے گی یہ میں ان کی نہیں بات کر رہا۔میں اُن کے بعد جو قسم ہے طالب علم کی یعنی ذہین ہے مگر غیر معمولی ذہین نہیں اچھا ذہین ہے غیر معمولی ذہین نہیں اور غریب ہے یہ انعام نہیں ہے یہ حق کی ادائیگی ہے۔دو علیحدہ چیزیں ہیں۔ایک ہے انعام کے طور پر ملتا ہے وہ تو کروڑ پتی ہے وہ بھی لیتا ہے انعام آ کے۔ایک ہے، حق ہے اُس کا۔اس کا حق ہے کہ اُسے پڑھایا جائے اس کا حق اس کو دیا جائے گا۔ایک لاکھ پچیس ہزا ر وپے سالانہ کا وظیفہ انشاء اللہ تعالیٰ ہم دیں گے اس کے لئے ایک کمیٹی میں مقرر کر دوں گا جس کے صدر میں ابھی مقرر کر دیتا ہوں۔یہ یہاں نہیں رہتے زیادہ لیکن مشورے ان سے لئے جا سکتے ہیں یہاں رہنے والا نائب صدر ان کی قائمقامی کرے گا۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی یہ عزت افزائی جماعت کرتی ہے اس وقت کہ میں ان کو اُس کمیٹی کا صدر بناتا ہوں جن کے ذریعہ سے سوالاکھ روپے کے وظائف ذہین بچوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے۔میرا خیال ہے خدا چاہے تو شاید ہم اگلے سال