خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 397 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 397

خطابات ناصر جلد دوم ۳۹۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء ایک ایک واقعہ لکھیں۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے متعلق ہی اُردو میں درجنوں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں آئیں آگے لکھنے والے اور لکھیں گے اور آپ آگے آئیں اور خرید میں اُن کتابوں کو۔تا کہ جو لکھنے والے اور طبع کروانے والے ہیں اُن کے پیسے ضائع نہ ہو۔جو شخص مثلاً حضرت بلال پہ یہ کتاب لکھ گیا مجھے یقین ہے کہ اُس کے پیسے ضائع نہیں ہوں گے۔تو یہ تو میں نے بتایا ناسات کتابیں ہیں۔مجھے تو ایک دو سال کے اندراندر سات ہزار چاہئیں۔پھر اُن کے ترجمے چاہئیں اُن کا ترجمہ مجھے جرمن زبان میں چاہئے انگریزی زبان میں چاہئے اُن کا ترجمہ مجھے فرینچ زبان میں چاہئے سپینش زبان میں چاہئے اُن کا ترجمہ مجھے اٹالین زبان میں چاہئے اُن کا ترجمہ مجھے یوگوسلاوین زبان میں چاہئے جہاں کے احمدی کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے لئے کتابیں دولا کے۔اُن کا ترجمہ مجھے پولش زبان میں چاہئے۔اُن کا ترجمہ ہنگرین زبان میں چاہئے جہاں ایک خاصی جماعت احمدیوں کی ہے۔کمیونسٹ ملک ہے زیادہ باہر نہیں آتے۔ملاپ نہیں اُن کے ساتھ لیکن کبھی کسی کے نام، پرانے واقفوں کے نام ان کا ابھی تک خط آتا رہتا ہے کہ ہم احمدیت پر قائم ہیں، ہمیں عربی زبان میں کتابیں چاہئیں۔احیائے اسلام کے لئے ، ان باتوں کو مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ کرنے کے لئے۔جتنے ہمارے جماعتی یا نیم جماعتی اخبار وغیرہ ہیں ان کو خریدنا چاہئے ، ان کو پڑھنا چاہئے بہت کم توجہ ہے اس طرف۔آپ حیران ہوں گے کہ اگر آپ ( آج کا نہیں میں کہتا جس وقت آکسفورڈ میں پڑھا کرتا تھا اُس وقت کی میں بات بتا رہا ہوں ) تھرڈ کلاس میں سوار ہو جائیں مزدوروں سے بھری ہوئی گاڑی۔ہر آدمی کے ہاتھ میں اخبار پکڑا ہوا ہے وہ اخبار پڑھ رہا ہے۔ساڑھے تین سالہ طالب علمی کا زمانہ میں نے وہاں گزارا ہے اس میں کسی ایک آدمی کو دوسرے سے اخبار مانگ کر پڑھتے نہیں دیکھا۔مانگتا ہی کوئی نہیں۔اپنا خریدتا ہے ہر شخص۔پھر رڈی میں یوں پھینک دیتا ہے وہ، اُن کے اخبار پھینکنے کے قابل ہیں۔لیکن پڑھنے کے قابل بھی ہیں۔جو پڑھنا ہوتا ہے اس نے وہ پڑھ لیتا ہے پھر پھینک دیتا ہے۔ایک شخص اخبار پڑھ کے اپنی سیٹ پر چھوڑ کے اسٹیشن پر اُتر جاتا ہے وہاں ایک اور آدمی آ بیٹھتا ہے جس کے پاس اخبار نہیں، جب گاڑی کھڑی ہوتی ہے وہ پلیٹ فارم پر جا کر اپنے لئے وہی اخبار خرید کے لاتا ہے۔وہ نہیں اُٹھاتا جو اُس کی سیٹ