خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 396
خطابات ناصر جلد دوم ۳۹۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء کے نتیجہ میں چودہ سو سال میں رونما ہو چکے ہیں کہ لاکھوں کتابیں لکھی جاچکی ہی لکھی جانی چاہئیں جو ہم نہیں کرتے وہ دوسرے بھی بعض دفعہ کر دیتے ہیں۔پچھلے سال میں لندن میں تھا تو ایک دوست کسی مطبع خانہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے۔وہ میرے پاس آئے۔کچھ کتابیں تحفہ لائے اُس کمپنی کی طرف سے۔اُن میں سے ایک کتاب بلال رضی اللہ عنہ پر تھی۔حضرت بلال وہ حبشی جس کی جلد کا ظاہر تو کالا تھا لیکن جس کے اندر سے اس قسم کا نور نکلتا تھا کہ آج شاید سارے امریکہ کے سفید فام کے ٹو رکواکٹھا کیا جائے تو تب بھی ایک ذرہ کے برابر نہ ہو اُس کے مقابلے میں۔اور اتنی اچھی کتاب لکھی آپ بیتی کے رنگ میں۔بلال کہتے ہیں مجھ پر یہ واقعہ گزرا مجھے میرے مالک نے ( غلام تھے نا اسلام سے پہلے اور پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خریدا اور آزاد کیا) ریت پر لٹا دیا مجھے۔میرے سینہ پر پتھر رکھا۔مجھے کوڑے لگائے۔میں بے ہوش ہو گیا۔اُس وقت نیم بے ہوشی تھی۔کبھی میں پورا بے ہوش ہو جا تا تھا۔کبھی کچھ ہوش آ جاتی تھی۔نیم ہوش اُس وقت کوئی شخص آیا۔اُس نے میرا سودا کیا اور مجھے لے گیا اپنے گھر اور مجھے اپنے بچے کی طرح اُس نے اپنے گھر میں رکھا اور کہتے ہیں اُس وقت مجھے دہندلا سا یاد ہے کہ کوئی شخص میری چار پائی کے پاس مصلی بچھا کر نماز پڑھتا ہے۔کہتے ہیں مجھے یہ پتہ لگا کہ مجھے خریدنے والے حضرت ابوبکر تھے اور آزاد کرنے والے تھے۔تو اُن سے میں نے پوچھا میرا خیال ہے نیم بے ہوشی کی حالت میں مجھے شبہ ہے یہ احساس ہوا کہ میرے قریب مصلی بچھا ہوا ہے اور کوئی شخص وہاں نفل پڑھ رہا ہے اُس نے کہا تم نہیں جانتے کون تھا وہ میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اُن کی دعاؤں نے تمہیں زندہ کیا آسمانوں سے تمہارے لئے زندگی لے کے آئی ہیں وہ دُعائیں ورنہ تمہاری حالت بچنے والی نہیں تھی۔کہنے کو چھوٹا سا واقعہ ہے۔چھوٹا نہیں۔اس قدر پیار ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں انسان کے لئے خواہ وہ انسان زار روس ہے خواہ وہ انسان حبشی غلام کوڑے کھانے والا تپتی ریت پہ لٹا کے اُس کے اوپر پتھر رکھے جارہے ہیں وہ ہے۔کوئی فرق نہیں کیا انسان، انسان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ، یہ تو اس وقت باتیں کرتے ہوئے آپ سے میرے دماغ میں ایک مثال آگئی۔ہزار ہا کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔چھوٹی چھوٹی لکھیں بچوں کے لئے۔