خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 398
خطابات ناصر جلد دوم ۳۹۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء کے اُوپر پڑا ہوا ہے۔یہ جذ بہ پیدا کریں۔عادت ڈالیں۔خرید کے پڑھنے کی عادت ڈالیں۔میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں عادت ڈالیں پڑھنے کی۔خرید کے پڑھنے کی عادت ڈالیں ویسے لوگ لیموں نچوڑ تو ساری دنیا میں ہیں امریکہ میں بھی ہیں ، انگلستان میں بھی ہیں یورپ میں بھی ہیں یہاں بھی ہیں جو کسی کی کتاب پڑھنے کے لئے لیتے ہیں پھر واپس ہی نہیں کرتے۔وہ تو ہیں چند ایک۔ساری قوم اگر تیار ہو جائے اور ہزار میں دو ایک ایسے ہوں تو معاف کر دو اُن کو۔وہ اپنا شوق اس طرح پورا کرلیں لیکن قوم کو عادت ہونی چاہئے کم از کم ہماری قوم کے اس حصے کو تو عادت ہونی چاہئے جو میری بات سنتا اور غور سے سُنتا اور دل میں اُس کے جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ میں اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کروں۔میں نے بتایا پڑھنے کی عادت ، لکھنے کی عادت ہونی چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو کلام ہے اس کے اندر اتنا اثر اور اتنا حسن ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اسی کے قریب کتا ہیں لکھیں، عربی میں ہیں فارسی میں بھی ہیں۔اکثر اُردو میں ہیں۔سب کے تراجم شائع کرنا۔پھر دُنیا اُن تراجم کو پڑھنے کے لئے تیار بھی ہوا بھی تو نہیں تیار تمہیں، چالیس، پچاس سال ساٹھ سال شاید لگیں ان کو تیار ہونے میں لیکن اس وقت ضروری ہے کہ آپ کی کتب کے اقتباسات کو شائع کر دیا جائے۔اس وقت ایک کتاب تو صد سالہ جوبلی کے انتظام میں شائع ہوئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات۔اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق۔اسلام کیا چیز ہے؟ اسے روشناس کرانے کے متعلق۔قرآن عظیم کے متعلق اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان اور آپ کے خاتم النبین ہونے کا جو مقام ہے اُس کے متعلق۔۳۲۸ صفحے ہیں ان حوالوں کے ، کچھ صفحے اور بھی ہیں یہ شائع ہوئی ہے اور بڑی سستی اللہ کے فضل سے شائع ہو گئی۔بہترین مطبع خانے نے شائع کی ہے بہترین کاغذ ہے، بہترین Get up ہے اور صرف اڑھائی پاؤنڈ قیمت ہے جو کچھ بھی نہیں اُن ملکوں کے لحاظ سے ، اتنی ہی قریباً سائز کی ایک invitation ہے کتاب جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لکھی ہوئی ہے اور ایک فرم نے ہم سے اجازت لے کے دس ہزار شائع کی ہے اپنے طور پر اور اُس میں بہت سارا تعارف ہو گیا اسلام کا اور احمدیت کا پچھلے سال اُس