خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 309 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 309

خطابات ناصر جلد دوم ۳۰۹ افتتاحی خطاب ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۸ء یہاں کرایہ پر مکان لے کر رہتے ہیں لیکن یہاں ہمارا مرکز ہے اس لئے ہم کہتے ہیں یہ ” ہمارا قصبہ یہ ہمارا قصبہ جو ہے اس نے بھی خدا تعالیٰ کے بڑے نشان دیکھے ہیں۔جس جگہ احباب بیٹھے ہیں اور اردگرد ہزاروں مکان دیکھ رہے ہیں۔وہ مکان جو جلسہ کے دنوں میں خدا تعالیٰ کی ان برکتوں کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اتنی بڑی تعداد کو اتنی چھوٹی جگہ کے اندر سمیٹ لیتے ہیں اور یہ مکان کوشش کرتے ہیں کہ آپ کو تکلیف نہ پہنچے اور خدا تعالیٰ کی شان اس میں ہمیں نظر آتی ہے۔یہ ایسا علاقہ تھا کہ بڑی دیر کی بات ہے پارٹیشن سے پہلے ایک دفعہ ہمارے تایا زاد بھائی حضرت مرز ا عزیز احمد صاحب جو گورنمنٹ کے افسر تھے۔کسی سرکاری کام کے سلسلہ میں یہاں سے گزر کر سرگودہا گئے۔واپسی پر ان کے ڈرائیور نے کہا کہ شام کے وقت وہ اس علاقہ سے نہیں گزرے گا۔اس لئے آپ رات سرگودہا میں رہیں۔کیونکہ یہ علاقہ جو پہاڑوں کے اردگرد پھیلا ہوا ہے اس میں سانپ ہیں اس میں بھیڑیئے ہیں اس میں چور ہیں۔اس میں ڈا کو بستے ہیں اور اب خدا نے اتنا انقلاب عظیم بپا کر دیا اس علاقہ میں کہ چھیننے والے تو یہاں بستے ہیں لیکن ساری دنیا کے دلوں کو خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھینے والے بستے ہیں۔پہلے دکھ دینے والے یہاں بستے تھے۔اب خدمت کرنے والے یہاں بستے ہیں۔اسلام بڑا عظیم مذہب ہے۔بڑا حسین مذہب ہے۔قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی آیت بلکہ اس کا ایک ٹکڑا ہے جس میں كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ااا) کا اعلان کیا قرآن کریم نے اور سب بنی نوع انسان کو خادم اور مخدوم کی حیثیت سے ایک مقام پر لا کر کھڑا کر دیا۔خادم مسلمان اور مخدوم جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے جن کی ہم نے خدمت کرنی ہے۔جن کی ہم نے اصلاح کرنی ہے اور ان تک اس نور کو پہنچانا ہے جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔انسان انسان میں قطعاً کوئی فرق نہیں۔اسلام نے انسان کو اتنی آزادی ضمیر دی ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ہر وہ مضمون جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے وہ انسان کو اس بات کا قائل کر دیتا ہے کہ واقع میں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام ہے اور اگر انسانی معاملات کو عقل پر چھوڑ دیا جاتا تو انسانی عقل تو وہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔اب بھی جبکہ قرآن کریم