خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 310
خطابات ناصر جلد دوم ۳۱۰ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۸ء نے ان مسائل کو بیان کر دیا ہے۔انسان کی عقل پھر بھی بہک جاتی ہے۔مثلاً اسلام نے جس قسم کی آزادی ضمیر انسان کو عطا کی اور اس کی ذمہ داری لی اور گارنٹی دی ہے وہ ہمیں کہیں نظر نہیں آتی۔ہماری عقلیں وہاں تک نہیں پہنچ سکتیں۔لیکن اس مضمون کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انشاء اللہ جلسہ سالانہ کے معاً بعد آنے والے جمعہ کے دن بیان کروں گا۔جمعرات کو جلسہ ختم ہو رہا ہے۔اگلے دن جمعہ ہے۔خطبہ جمعہ میں میں یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ اس حصہ کو بیان کر دوں کہ قرآن کریم کی تعلیم میں کتنا حسن پایا جاتا ہے۔میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ اب یہ جگہ بڑی برکتوں والی بن گئی ہے اس لئے نہیں کہ مجھ میں اور تم میں کوئی خوبی تھی بلکہ اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ پیار کرنے والے آپ کے خادم اور روحانی بیٹے نے ایک ایسی جماعت پیدا کی۔جس کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے نور سے دنیا کو منور کرے اور دین اسلام کو پیار اور محبت اور بے لوث خدمت کے ساتھ ساری دنیا میں غالب کرے اور دوسرے ادیان جو اپنے اپنے وقت پر خدمت کر چکے ہیں ان کی اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ انسان روحانی طور پر ترقی کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ اسلامی تعلیم کو سمجھنے کے بعد اس پر عمل کرسکتا ہے۔پس ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا میری یا آپ کی کسی ذاتی خوبی یا کمال کی وجہ سے نہ ہوگا یہ تو خدا تعالیٰ کا ایک منصوبہ ہے جو اپنے وقت پر پورا ہوکر رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جنوری ۱۹۰۰ ء میں ایک دعا کی جو آپ کی کتاب تریاق القلوب کے آخر میں چھپی ہوئی ہے۔اس دعا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رب کو مخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ اے خدا میں صرف تجھ سے مخاطب ہوں اور صرف تیرے ساتھ تعلق رکھنے والا ہوں جو لوگ میری مخالفت کر رہے ہیں میں ان کی بات نہیں کر رہا۔تو نے مجھے بھیجا؟ تو نے میرے لئے نشان ظاہر کئے۔میں نے تیرے نشانوں کو دیکھا۔میں سمجھتا ہوں کہ تو نے مجھے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ میں ساری دنیا میں اسلام کو پھیلا دوں اور اس غرض کے لئے نیکو کارلوگوں کی ایک جماعت پیدا کر دوں جو دنیا میں نیکی اور تقویٰ کو پھیلانے والے ہوں۔لیکن دنیا کی اکثریت مجھے قبول نہیں کر رہی۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ اگر جیسا کہ سمجھا جا رہا ہے میں تیری نگاہ میں بھی