خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 220 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 220

خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۰ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء سکتا ہے اور انسان کی طاقتیں اسے حاصل کر سکتی ہے۔بلکہ اکثر اوقات نفع کی جگہ ضرر ہوتا ہے۔ایسا ہی عقل کا حال ہے کہ علم دین میں اس کے نیک آثارتب مترتب ہوتے ہیں جب وہ جو ڑ یعنی الہام اس کے ساتھ شامل ہو جائے۔ورنہ اپنے جوڑ کے بغیر ڈائین ہو کر ملتی ہے۔سارا گھر نگلنے کو طیار ہو جاتی ہے“ ہیروشیما میں یہی کہا تھا نا عقل نے۔ناقل ) سارا شہر ہی کھا گئی۔عقل نے اٹیم بم بنایا تھا اور اس طرح وہ کئی لاکھ کی آبادی کھا گئی۔”سارا شہر سنسان ویران کرنا چاہتی ہے۔پر جب جوڑ میسر آ گیا تب تو چشم بد دور کیا ہی پاک صورت اور پاک سیرت ہے۔جس گھر میں رہے مالا مال کر دے۔جس کے پاس جائے اس کی سب نحوستیں اتار دے۔تم آپ ہی سوچو کہ جوڑا کے بغیر کوئی چیزا کیلی کس کام کی ؟ پھر تم کیوں یہ ادھوری عقل اس قدر ناز سے لئے پھرتے ہو۔کیا یہ وہی نہیں جو کئی بار دروغگوئی میں رسوائیاں اٹھا چکی ( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلدا صفحه۱۷۰ حاشیہ) بڑی طاقتوں کی عقل یعنی ڈپلومیسی کا یہ کمال ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے ساتھ جو معاہدے کرتے ہیں اور گفت و شنید کرتے ہیں اس میں اتنی خطرناک دروغگو ئیاں چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور عقل کے اتنے لپیٹ ہوتے ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ عقل اس قدر گراوٹ اور اس قدر گہرائیوں میں کیسے پہنچ گئی۔حضور فرماتے ہیں۔و کیا تمہیں خبر نہیں کہ اس نے تم سے پہلے کتنوں کا لہو پیا۔کتنوں کو گمراہی کے کنوئیں میں دھکیل کر مارا تم جیسے کئی یاروں کو کھا چکی۔صد بالاشیں ٹھکانے لگا چکی۔بھلا تم نے اس اکیلی عقل کے ذریعہ سے کون سی ایسی دینی صداقتیں پیدا کی ہیں جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہیں۔اور اس سے دھو کا مت کھانا کہ عقل ایک عمدہ چیز ہے ہم ہر یک تحقیق عقل ہی کے ذریعے سے کرتے ہیں بلاشبہ عمدہ چیز ہے لیکن اس کا جو ہر تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب وہ اپنے جوڑ کے ساتھ شامل ہو ورنہ وہ دھوکا دینے میں دشمنوں سے بدتر ہے۔دورنگی دکھلانے میں منافقوں سے بڑھ کر ہے۔سو تمہاری بد نصیبی تم اس کے جوڑ کے