خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 216

خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۶ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء ہے اس کی رو سے ان کے دماغ میں روشنی آجاتی ہے جو دراصل خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد کے طور پر آتی ہے جو الہام کے بڑے دائرے کے اندر آتی ہے ویسے صحیح الہام اور وحی کا لفظ اس کے لئے استعمال نہیں ہوسکتا لیکن خدا کی طرف سے ایک ہدایت آتی ہے اور سائنسدانوں کو راہ مل جاتی ہے اور وہ ریسرچ میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اسی لئے جب اسلام نے علوم کے میدان میں بہت ترقی کی۔چین اس کام میں بڑا معروف اور مشہور ہے۔تاریخ اس بات کے ذکر سے بھری ہوتی ہے کہ وہاں کے مسلمان علماء اور محققین نے ریسرچ کی اور اس پر انہوں نے سینکڑوں ہزاروں کتابیں لکھیں اور وہ بھی اتنے تھوڑے وقت میں کہ اس وقت کی دنیا حیران ہو گئی تھی کہ یہ کیا ہو گیا ہے چنانچہ بڑے بڑے لاٹ پادری وہاں جاتے تھے اور مسلم یونیورسٹیوں میں داخل ہوتے تھے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔پس عقل کے یہ تین رفیق ہیں۔ان کی وجہ سے عقل انسان کے کام آرہی ہے ویسے یہ ہے بڑے کام کی چیز لیکن اس کی عقل کسی کام کی نہیں بعض لوگ کہتے ہیں عقل کا قصور نہیں نیم عقل عاقل کا قصور ہے عقل کئی حیثیت میں کوئی کام نہیں کر سکتی۔یہ ایک فلسفیانہ مسئلہ ہے تاہم جب وہ تھیوری میں آئے گی یعنی کسی فرد کی عقل بنے گی تبھی کام آئے گی کبھی آپ نے آسمانوں پر عقل کو اڑتے یا زمین پر چلتے دیکھا ہے؟ عقل تو ایک گلی ہے ایک نام ہے ایک خاص سمت کا۔لیکن آپ نے عاقل تو بہت دیکھے ہیں دنیا میں کوئی ایسا عاقل نہیں جس نے الہیات کے معاملات میں ایک بھی اصول ایسا بتایا ہو جسے ہم قرآن کریم میں سے نکال کر نہ دکھا سکیں اور دہر یہ خیالات کو مٹانے کے لئے یہ بڑی زبر دست دلیل ہے۔دنیا کا کوئی عقلمند انسان ایسا نہیں ہے جو قرآن کریم کے کسی ایک اصول کی نقل ہی بنا سکتا ہوا اپنے طور پر بھی نہیں بنا سکتا۔قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے اور ہم جماعت احمدیہ کے افراد اسے سچا اور ثابت کرنے کے ذمہ دار ہیں اور میں جماعت احمدیہ کے امام کی حیثیت سے اس بات کا ذمہ دار ہوں کہ جو شخص آئے اسے میں قائل کروں گا کہ یہ بات صحیح ہے کہ قرآن کریم بے مثل و مانند ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا کلام ہے جس کے ساتھ ملتا ہوا اس پایہ کا کلام کوئی انسان بناسکانہ بنا سکتا ہے۔اور نہ کبھی بنا سکے گا ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔پس ہماری عقل اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ انسان کے ہاتھ کی بنائی ہوئی ہر چیز بے مثل و مانند نہیں کوئی چیز بھی بے مثل و مانند نہیں ہے۔آج کوئی ایک