خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 215

خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۵ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء خبریں دیتے ہیں یا دے سکتے ہیں ہماری عقل یہ کہے گی تمہارے سب اربعے غلط ہیں لیکن الہام کہے گا کہ خدا تعالیٰ جسے چاہے غیب کی خبروں کا ایک حصہ عطا کرتا ہے اور پھر وہ واقع ہو جاتا ہے اور عقل کی بھی اس پر مہر لگ جاتی ہے اور خود وہ واقعہ بھی شہادت دے رہا ہوتا ہے۔میں جب الہام کی بات کرتا ہوں تو میں زید یا بکر کے الہام کی بات نہیں کر رہا ہوتا بلکہ میں اس کامل الہام کی بات کرتا ہوں جو ہماری اصطلاح میں قرآن عظیم کہلاتا ہے قرآن کریم ایک الہامی کتاب ہے اور وحی کے ذریعہ نازل ہونے والی کتاب ہے۔قرآن کریم کی یہ وحی ہمیں بتاتی ہے کہ عقل ماورای ! الہیات کام کرتی ہے ویسے عقل کے جو دوسرے دور فیق ہیں الہام ان کی بھی ایک اور رنگ میں مدد کرتا ہے یعنی لیبارٹری کا تجربہ اور مشاہدہ ضروری ہے محسوسات اور مشاہدات کی دنیا میں اور جہاں تک تاریخ سے استدلال کرنے کا سوال ہے وہ بھی ضروری ہے لیکن عقل کے ان دور فیقوں کی مدد کے لئے بھی الہام ہوتا ہے اور وہ اس طرح پر کہ عقل کو سرگرداں بھٹکنے نہیں دیتا بلکہ الہام آ کر صحیح راستے کی رہنمائی کر دیتا ہے بجائے اس کے کہ لوگ پھر رہے ہیں کبھی ایک گلی میں گئے تو پتہ لگا آگے سے blind یعنی راستہ بند ہے پھر دوسری طرف گئے پھر تیسری طرف گئے اور جو کام چھ مہینے میں ہوسکتا تھا وہ دس سال میں کہیں جا کر ہوا۔یوں ہی پھرتے رہے اور ادھورا کام ہوالیکن بسا اوقات الہام عقل کی مدد کرتا ہے وہ اسے ایک روشنی دیتا ہے اور کہتا ہے یہ راستہ ہے اس پر چلو گے تو منزل پر پہنچ جاؤ گے میں نے کئی سائنسدانوں سے بات کی ہے یہ جو روشنی نظر آتی ہے یہ بھی ایک قسم کا الہام ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ایک ہدایت ہے اور اسے ہم ہدایت کے بڑے دائرہ کے اندر رکھنے پر مجبور ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ ایک سائنسدان ریسرچ کرتا ہے اسے کچھ پتہ نہیں لگتا اور ریسرچ کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور پریشان ہو جاتا ہے وہ دہر یہ ہے خدا کو نہیں مانتا۔پھر وہ کسی نامعلوم چیز کی طرف تڑپ کر جاتا ہے اور اس کے دل میں آتا ہے کہیں سے تو مجھے مددملنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے تو نے مجھ سے ہی گویا دعا کر لی۔چنانچہ اس کے لئے روشنی پیدا ہو جاتی ہے سائنسدان کہتے ہیں۔وہ اپنی ریسرچ میں بہت پھنسے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ ۲۰۔۲۰۔سال تک ان کی عقلی کاوش کے نتائج نہیں نکلتے اور پھر ایک دن خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے ( ان لوگوں نے brain wave کا محاورہ بنالیا