خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 121
خطابات ناصر جلد دوم ۱۲۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنا پیار کیا او آپ کو آئندہ قیامت تک کے متعلق تسلیاں دیں اور آپ کو ایسی باتیں بتائیں کہ چودہ سو سال تک ان کو سمجھنے والا کوئی نہیں تھا اور چودہ سو سال کے بعد ایک دن ایک ڈینٹسٹ مجھے ملا، برش کے متعلق کوئی بات ہورہی تھی وہ شاید مجھے سمجھانے لگا کہ دانت صاف کرنے والا برش نچلے دانتوں کا نیچے سے اوپر اور اوپر کے دانتوں کا اوپر سے نیچے لے کر آئیں تا کہ مسوڑھے نہ چھلیں۔میں نے کہا کہ تم نئی بات تو نہیں بتا رہے یہ تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے بتا چکے ہیں۔کہنے لگا اچھا! مجھے اس کا حوالہ دیں۔خیر وہ حوالہ نکال کر ان کو دیا گیا۔اب اتنی سی چیز کا بھی آپ نے خیال رکھا۔یہ بھی خیال رکھا کہ اپنے بوٹ کا تسمہ بھی خدا تعالیٰ سے مانگو۔اُس زمانے میں تو تسمے والا بوٹ شاید خال خال ہی ہوتا ہو گا لیکن ایک ایسا زمانہ آنے والا تھا کہ قریباً ہر آدمی کے پاس تسموں والا بوٹ ہونا تھا اس لئے زیادہ تر اسی کو مخاطب کر کے کہا نا جس کو زیادہ ضرورت تھی کہ اگر تیرا تسمہ ٹوٹ جائے تو یہ نہ سمجھنا کہ میں خود بازار جا کر خرید سکتا ہوں بلکہ اپنے بوٹ کا تسمہ بھی اپنے پیار کرنے والے رب سے مانگنا اور یہ تو ایک آنکھیں رکھنے والے انسان کا مشاہدہ ہے کہ بہت سارے لوگ تسمہ لینے کے لئے گھر سے نکلے ہوں گے اور راستے میں ان کا ہارٹ فیل ہو گیا ہو گا اور وہ تسمہ بھی نہیں لے سکے ہوں گے۔ایک شخص کے متعلق تو میں جانتا ہوں کہ وہ چند فرلانگ کے فاصلے پر اسٹیشن پر اپنے کسی عزیز کا استقبال کرنے کے لئے گھر سے نکلے۔شاید ڈیڑھ فرلانگ کا فاصلہ ہوگا اور راستے میں ہارٹ فیل ہو گیا اور سائیکل سے گر کر مر گئے یہ ربوہ کا واقعہ ہے۔پس زندگی اور موت تو نہ انسان کے اختیار میں ہے اور نہ اس کی کوئی فکر کرنی چاہئے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عظمت ہے کہ ایک دن آپ صحابہ میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے تو آپ نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو جائیں گے جو خروج مہدی کا انکار کریں گے اور کہیں گے کہ مہدی نے تو آنا ہی نہیں ہے یہ ساری حدیثیں وضعی ہیں لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ خروج مہدی کا انکار کرنے والے کا فر ہوں گے۔یہ زمانہ جس میں خدا تعالیٰ نے اسلام کو غالب کرنا ہے یہ زمانہ جس کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کا پیار ہر انسان کے دل میں قائم ہوگا خواہ وہ امریکہ میں بسنے والا ہو یا روس میں بسنے والا ہو یا چین میں بسنے والا ہو یا جزائر کا رہنے والا ہو یا یورپ کی