خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 120 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 120

خطابات ناصر جلد دوم وقف جدید ۱۲۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء وقف جدید کے بہتر معلمین کام کر رہے ہیں معلمین کا اپنے رنگ میں بہت فائدہ ہے لیکن ان کی تعداد کم ہے۔دوست مجھے بھی لکھتے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس معلم بھیجیں۔یہ بچوں کو پڑھاتے ہیں اور تربیت کا کام کرتے ہیں لیکن اس کے لئے مناسب آدمی ملنے چاہئیں۔انشاء اللہ اب ضرورت کے مطابق آدمی مہیا کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے گزارے کے لئے بھی سامان پیدا کر دے گا۔فضل عمر درس القرآن کلاس ۱۹۷۵ء میں اس میں شامل ہونے والے طلبہ یعنی لڑکوں کی تعداد صرف چار سو اڑسٹھ ہے۔جن میں سے بہت سارے یہاں بیٹھے ہوں گے لیکن جو ہماری بچیاں اس میں شامل ہوئی ہیں ان کی تعداد چھ سو سولہ ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ امتحان میں بھی لڑکوں سے آگے نکل جاتی ہیں۔وہ بڑی توجہ دے رہی ہیں اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے کیونکہ انہوں نے ماں بننا ہے اس لئے ان کو بھی تربیت لینی چاہئے لیکن میرا خیال ہے کہ اگر انہوں نے مائیں بننا ہے تو آپ نے بھی باپ بنتا ہے اور اگر ان ماؤں پر تربیت کی ذمہ واری ہے تو باپ ہونے کے لحاظ سے آپ پر بھی تربیت کی ذمہ واری ہے۔پس قرآن کریم کے پڑھنے، سیکھنے اور اس پر غور کرنے کا ہر وقت مشغلہ رہنا چاہیئے۔یہ کلاس تو ہم صرف عادت ڈالنے کے لئے منعقد کرتے ہیں ورنہ اصل بات تو یہ ہے کہ ہر گھر سوچ و بچار کے بعد کوئی وقت مقرر کر لے مثلاً یہ کہ صبح کی نماز کے بعد آدھا گھنٹہ یا مغرب اور عشاء کے درمیان آدھا گھنٹہ سوائے دین کی باتوں کے اور کچھ نہیں کریں گے۔یہ میں مثال دے رہا ہوں اپنے حالات کے مطابق کرو۔اگر ہر گھر یہ عہد کر لے تو اگلی نسل کو بڑا فائدہ ہوگا اور پھر آپ کو بھی پڑھنا پڑے گا۔دیکھنا پڑے گا اور یا درکھنا پڑے گا۔پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بیکسوں کے درمیان یعنی انسان کے درمیان آج سے قریباً چودہ سو سال پہلے بہت ہی پیاری زندگی گزاری ہے۔اتنی حسین زندگی ! کہ ہر پہلو اور ہر ورق آپ کی زندگی کا ہمارے لئے اسوہ ہے۔اتنی عظیم ہے شان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ اگر سارے انسانوں کی عقلوں کا نچوڑ نکالا جائے تو وہ نچوڑ بھی اس عظمت اور اس جلال کو نہیں سمجھ سکتا جو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔خدا تعالیٰ نے