خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 492
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب ضرورت کی کیا تعریف بتاتا ہے۔چنانچہ میں نے اس سے یہ کہا کہ تم نے نعرہ تو بڑا اچھا لگایا ہے کانوں کو بڑا بھلا معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک شخص کی ضرورت پوری کر دی جائے لیکن مجھے اس میں خرابی یہ نظر آرہی ہے کہ تم نے needs یعنی ضرورت کی تعریف نہیں کی۔اگر آپ مجھے needs کی تعریف بتا دیں تو میں آپ کا بڑا ممنون ہوں گا۔خیر وہ ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا اور چار پانچ منٹ باتیں کرتا رہا لیکن اس نے "ضرورت" کی تعریف نہیں بتائی اور جو دوسرے ججز سن رہے تھے وہ اس کی باتیں سُن کر مسکرا رہے تھے۔میں نے سمجھا کہ میرا مقصد حل ہو گیا ہے۔پس ایک غریب آدمی کو یہ غلط فہمی ہے ایک محروم اور دُکھیا کو یہ غلط اطلاع دی گئی ہے کہ اشتراکیت اس کے دُکھوں کا مداوا اور اس کی مصیبتوں کا علاج ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہے ہم نے ۱۹۶۷ء میں جب یورپ کا ٹور (tour) کیا تھا اُس سفر پر جانے کا جو راستہ لیا تھا وہ کراچی ، تہران، ماسکو اور فرانکفرٹ تھا۔فرانکفرٹ میں ہماری مسجد اور مشن ہے میں نے وہاں سے دورہ شروع کرنا تھا چنانچہ جب ہمارا جہاز ماسکو پہنچا تو وہاں ہمیں قریباً پون گھنٹہ ٹھہر نا پڑا۔ہم جہاز سے نیچے اترے۔میری آنکھ نے بہت سی چیزیں مشاہدہ کیں۔ان میں سے دو چیز میں بڑی دلچسپ ہیں۔ایک یہ کہ ماسکوائیر پورٹ پر ساری دنیا کے ہوائی جہاز آ کر اترتے ہیں اس لحاظ سے بہ ہوائی اڈہ ساری دُنیا کے لئے Show window یعنی نمائش گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہاں روی تہذیب اور ان کی سوشلزم کا بہترین نمونہ نظر آنا چاہئے لیکن مجھے وہاں کے کسی ایک شخص کی جسمانی حالت ایسی نظر نہیں آئی جس کے متعلق میں یہ کہہ سکوں کہ اُسے پیٹ بھر کر کھانا ملتا ہوگا۔کلے چپکے ہوئے اور سفید سے داغ کلوں پر پڑ جاتے ہیں کمزوری کے نتیجہ میں وہ پڑے ہوئے لیکن اس سے بھی زیادہ جس چیز سے مجھے دُکھ ہوا وہ یہ تھا کہ کسی ایک شخص کے چہرے پر میں نے مسکراہٹ نہیں دیکھی۔میں سوچ میں پڑ گیا۔میں نے سوچا اگر ساری عمر رو کر ہی گزارنی ہے تو پھر اشتراکیت کا ہمیں کیا فائدہ؟ اب مثلاً ہماری جماعت ہے پہلے بھی میں نے بتایا ہے اس جلسہ پر بھی بتایا ہے کہ ۸۰ سال سے ہمیں گالیاں دی جارہی ہیں جو جس کی زبان میں آئے وہ بول جاتا ہے۔ہمیں گالی دینا اسی طرح فیشن بن گیا ہے جس طرح ہماری عورتوں میں لپ اسٹک لگا نا فیشن ہے ہمارے مردوں میں