خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 493 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 493

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب گالی دینا ایک فیشن بن گیا ہے کفر کے فتوے لگائے جا رہے ہیں لیکن ۸۰ سالہ گالیوں اور کفر کے فتووں نے ہمارے چہروں سے مسکراہٹیں نہیں چھینیں۔اس واسطے کہ مسکراہٹ کا اصل منبع اور سر چشمہ اللہ تعالیٰ کا پیار ہے جس کو وہ پیار حاصل ہو اس کے چہرے سے مسکراہٹ کون چھین سکتا ہے؟ کوئی چھین ہی نہیں سکتا۔یہ ناممکن بات ہے۔یہ مسکراہٹ اور بشاشت جس کا ذکر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے، کمیونزم نے جہاں اپنا اثر و نفوذ پیدا کیا ہے وہاں ہمیں نظر نہیں آئی۔البتہ یہ درست ہے کہ میں صرف پون گھنٹہ وہاں ٹھہرا۔یہ بھی درست ہے کہ میں نے چند سو روی آدمیوں سے زیادہ نہیں دیکھے لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ وہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ ہونے کے لحاظ سے جسے انگریزی میں Show Window کہتے ہیں یعنی اس کی نمائش کہ کیا کیریکٹر ہے وہاں نظر آنا چاہیے۔لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام نے اس دکھ کو جو محرومی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے یا دُکھ اور درد اور تکلیف اور بے چینی اور پریشانی لاحق ہوتی ہے مثلا کسی کو اس کا حق نہیں ملا اس لئے وہ پریشان ہے یا مثلاً لڑکا ذہین ہے مگر وہ اُسے پڑھا نہیں سکتا۔ماں باپ کے لئے تو وہ ساری عمر کا دُکھ ہے۔ایک بچہ یونیورسٹی میں فرسٹ آ جاتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اتنے غریب ہیں کہ وہ اُسے کالج میں نہیں داخل کروا سکتے۔اگر وہ بچہ نہ پڑھ سکے تو ساری عمر اس کے ماں باپ اور دوسرے بھائی بہن کہیں گے کتنی ظالم ہے یہ دنیا کہ ہمارا بچہ یا بھائی میٹرک میں فرسٹ آیا تھا لیکن اسے پڑھایا نہیں ہے اور یہ میں محض فلسفیانہ مثال نہیں دے رہا بلکہ امر واقعہ ہے ہمارا کالج جب لاہور میں تھا۔ایک اخبار میں یہ آ گیا کہ جو بچہ اس دفعہ میٹرک کے امتحان میں یونیورسٹی میں فرسٹ آیا ہے وہ اتنے غریب خاندان کا ہے کہ آگے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل نہیں کر سکتا اس لئے کوئی آدمی اس کی مدد کرے میں نے اس اخبار کو خط لکھا کہ ہمارا کالج اُس کے سارے اخراجات برداشت کرے گا وہ بچہ ہمارے کالج میں آ جائے۔ادھر اپنے ساتھیوں سے میں نے کہا کہ یہ بچہ پڑھ گیا۔یا اسے میں نے پڑھا دینا ہے یا کسی متعصب امیر دل میں جو اس کے لئے پہلے پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتا تھا اب وہ ہمارے تعصب کی وجہ سے خرچ کرے گا اور بچہ پڑھ جائے گا اور ہماری جو غرض ہے وہ پوری ہو جائے گی۔