خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 491
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۱ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب یہ علی وجہ البصیرت پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی انسانی دماغ اس جگہ نہیں پہنچ سکتا۔میں نے یہاں بھی اور باہر کے ملکوں میں بھی کہا کہ دیکھو یہ تعلیم اپنے حسن کی انتہاء اور اپنے احسان کی انتہاء کے نتیجہ میں ایسی ہے کہ کوئی انسانی دماغ وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔اب تم سوچو کہ جس کتاب میں یہ نازل ہوئی ہے وہ انسان کی بنائی ہوئی تو نہیں ہو سکتی۔یہ قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کی بھی ایک دلیل ہے۔قرآن کریم کے اندر ایک ایسی تعلیم ہے ہر انسان کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہاں تک انسان نہیں پہنچ سکتا مثلاً یہ کمیونزم ہے۔آج کل اس کے بھی نعرے لگ رہے ہیں۔یہ کمیونزم بھی وہاں تک نہیں پہنچا۔کمیونزم یعنی اشتراکیت نے جو نعرہ لگایا ہے وہ بظاہر بڑا حسین ہے اور وہ یہ ہے کہ جس کی جتنی ضرورت ہے ہم وہ پوری کر دیں گے۔یہ نعرہ بظاہر کان میں بڑا اچھا لگتا ہے لیکن جب میں نے مثلاً ( شاید کسی اور نے بھی غور کیا ہوگا۔غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس میں جو خرابی اور نقص ہے وہ یہ ہے کہ ضرورت کی تعریف نہیں کی گئی۔صرف یہ کہہ دیا: "To each according to his needs۔" لیکن نیڈز (needs) کو ڈیفائن (Define) نہیں کیا یعنی اس کی تعریف نہیں کی۔میں نے کارل مارکس کی کتابیں پڑھی ہیں۔داس کا پٹیل (Das Capital) اس کی مشہور کتاب ہے۔اسے میں نے ایک سے زائد بار پڑھا ہے اینجل ، لینن اور سٹالن ان سب کے original works ( یعنی اصل کتابیں ) پڑھی ہیں۔میری طبیعت ایسی ہے کہ میں خالی اقتباس سے تسلی نہیں پاتا۔اصل کتاب پڑھتا ہوں۔جس شخص نے کچھ لکھا ہے یہ اس کا حق ہے کہ اس کے خلاف تنقید کرنے سے پہلے اس کی کتاب پڑھ لی جائے صرف لوگوں کی تنقید پر انحصار نہ کیا جائے۔لیکن مجھے ان کی کتابوں میں کہیں بھی نیڈز (needs) یعنی ضرورت کی تعریف نظر نہیں آئی۔اب اسی افریقہ کے سفر سے واپسی پر ہم ہالینڈ میں ٹھہرے ہوئے تھے تو ایک موقع ایسا میسر آیا کہ چائے کی ایک پیالی پر انٹر نیشنل کورٹ کے چند جز کے ساتھ اکٹھے مل بیٹھنے کا موقع ملا۔ان میں روسی حج بھی تھا یعنی انٹرنیشنل کورٹ میں جو بج روس کی نمائندگی کر رہا ہے وہ بھی وہاں موجود تھا۔مجھے بڑی خوشی ہوئی میں نے سوچا کہ آج اس سے پتہ کریں یہ نیڈز (needs یعنی