خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 438

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب سینوں کو اس حسن سے منور کیا اور بہت سارے اس کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے منور کیا وہ اور زیادہ روشنی کے محتاج ہیں اور اس کی احتیاج محسوس کرتے ہیں اور اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ہم نے اپنی قوت اور استعداد کے مطابق ایک حقیر سا نذرانہ اپنے رب کے حضور پیش کیا ہے اس کی قیمت تو خدا تعالیٰ کے حسن کے ایک جلوے کے برابر بھی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے ایک جلوے کی قیمت بھی اس سے زیادہ ہوتی ہے۔اپنے عمل سے یا اپنے اخلاص سے آپ اس منڈی میں جا کر کس طرح کوئی چیز خرید سکتے ہیں؟ یہ تو ایسا ہی ہے کہ ایک بڑھیا روئی کے چند گالے یا گندم کے چند سیر لے کر ہیروں کی منڈی میں پہنچ جائے اور ہیروں کی بھی وہ منڈی جس میں ایک ایک ہیرے کی کم سے کم قیمت ایک لاکھ روپے ہو۔وہ بُڑھیا جو متاع لے کر اس منڈی میں جاتی ہے کیا تمہاری عقل یہ باور کرتی ہے کہ وہ بُڑھیا اس منڈی میں سے کوئی ہیرا خرید کر لے آئے گی؟ ہر گز نہیں ! یہی حال ہمارا ہے جو خدا تعالیٰ کا پیار ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا ہے۔جو خدا تعالیٰ کی محبت کے جلوے ہیں پیار کے اس ایک ایک جلوے کی قیمت میں اگر ساری دُنیا بھی دے دی جائے تو وہ کافی نہیں ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ بہت پیار کرنے والا ہے وہ کہتا ہے کہ ان جواہرات کی منڈی میں اخلاص کے ساتھ ایک دھیلا لے کر میرا ایک بندہ آیا۔اُس کے پاس ایک دھیلے کے سوا اور کوئی چیز نہیں میں اس کو مایوس نہیں کروں گا میں اپنا کوئی ہیرا اس کے ہاتھ میں ضرور رکھ دوں گا اگر چہ اُس مال کے مقابلے میں جو مجھے یہ دے رہا ہے اس کی قیمت کروڑ گنا زیادہ ہے۔اس سے بھی زیادہ۔پس کوئی کبر اور غرور نہیں پیدا ہونا چاہیئے کیونکہ جو کچھ حاصل کیا ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کیا ہے اپنی کسی خوبی یا کسی عمل کی وجہ سے حاصل نہیں کیا ، اس لئے عاجزانہ را ہوں کو مضبوطی سے پکڑو۔صراط مستقیم پر مضبوطی سے قائم ہو جاؤ۔عاجزانہ طور پر اُس کے حضور جھکو اور اُس سے دُعائیں کرتے رہو۔ہر ایک کی بھلائی چاہو۔کسی سے دشمنی نہ کرو خواہ وہ ساری عمر تم سے دشمنی کرتا رہا ہو۔معاف کرنے کی عادت ڈالو خدا کے بندوں سے پیار کرو۔جو مظلوم ہیں اُن کے ظلم دُور کرنے کی جہاں تک تمہیں طاقت ہے کوشش کرو۔جو حقوق سے محروم ہیں ان کے حقوق دلانے کی سعی کرو۔خدا کے ہو جاؤ۔اس کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر رکھ کر اپنی زندگی