خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 439
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳۹ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب کے دن گزارو۔اللہ تعالیٰ تمہیں وہ کچھ دے گا کہ قیامت تک تمہاری نسلیں تم پر فخر کریں گی اور حقیقتاً یہ دیکھیں گی کہ تمہیں وہی ملا جو صحابہ کو ملا تھا۔اور وعدہ پورا ہوا جو مہدی معہود سے کیا گیا تھا کہ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔اب ہم دعا کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ یہاں بھی آپ کے لئے سامانِ خیر اور بھلائی پیدا کرے اور وہ جو پاکستان میں یا پاکستان سے باہر ہیں اور اپنی مجبوریوں کی وجہ سے یہاں نہیں آ سکے حالانکہ اُن کے دل تڑپتے ہیں مگر حالات یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتے اُن کو بھی اللہ تعالیٰ اُن فضلوں میں ، اُن رحمتوں میں اور اُن برکتوں میں جو ہمیں محض اپنے فضل سے عطا کرے برابر کا شریک بنائے اور اُن کو توفیق دے کہ وہ بھی یہاں آکر اس فضا کو سونگھنے اور اس روشنی سے منور ہونے کی توفیق پائیں۔خدا کرے کہ ہم سب ساری دُنیا کو ، سب کا ئنات کو ، سارے عالمین کو تمام اقوام کو اور تمام ملکوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن و احسان کے جلوے دکھا کر آپ کے قدموں میں لا ڈالنے میں کامیاب ہوں۔خدا کرے کہ وہ جیسا پیار ہم سے کرنا چاہتا ہے اُس کا ویسا پیار ہم حاصل کر لیں خود کو اس کا اہل بنائیں۔پس عجز کے ساتھ زاری کے ساتھ تضرع کے ساتھ خدمت کے جذبہ کے ساتھ مساوات کا علم اُٹھاتے ہوئے کامیابیوں کی راہ پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ۔دُنیا کی نوجوان نسل احمدیت کی اور اسلام کی ہے۔نہ عیسائی اپنے بچوں کو بچا سکتا ہے اور نہ ہندو اپنے بچے کو بچا سکتا ہے یہ نسل تو اسلام کی ہے یہ تو اسلام کو ملے گی۔یہ نسل تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اب یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت سے باہر نہیں رہ سکتی یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آئے گی اور آکر رہے گی۔دُنیا جو چاہے کرتی رہے کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ دعاؤں کے ساتھ ہوگا۔میں تو کثرت سے دعائیں کرتا رہتا ہوں آپ بھی دعائیں کرتے رہیں۔اب ہم مل کر اجتماعی دعا کریں گے۔آپ اپنے وقتوں کو ضائع نہ کریں اپنی طاقتوں کو ضائع نہ کریں اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے کھاتے پیتے ، سوتے جاگتے آرام کرتے اور کام کرتے غرض