خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 421
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۱ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب نہیں۔شیطان اپنے تمام لشکروں کے ساتھ بھاگ گیا ہے اور حقیقتا بھاگ گیا ہے کیونکہ اس تعلیم کے آگے کون ٹھہر سکتا ہے؟ اور اس کی تحریف و تبدیل حقیر اور ذلیل ثابت ہوئی اور اس کی قائم کرد بد رسوم کا گند ظاہر ہو گیا اور وہ جو اس کے گروہ میں شامل ہو کر حق و صداقت میں رخنہ اندازی کر رہے تھے قرآنی انوار کی یلغار سے بھاری شکست کھا کر بھاگ گئے اور ان کے لئے اب کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہی اس لئے فرمایا:۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (الصف: ١٠) یعنی اس خاتم النبیین کے جلالی ظہور کے نتیجہ میں وہ تمام ادیان سابقہ جن میں شیطانی وسوسہ نے شرک خفی یا شرک جلی کی کھڑکیاں کھول رکھی تھیں اور جن کے چہروں کو اس یقین نے مسخ کر دیا تھا شکست کھا ئیں گے اور اسلام اپنی پوری شان کے ساتھ ان پر غالب آئے گا اور دنیا اس صداقت کو پہچاننے لگے گی کہ اِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمُ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک سب بنی نوع انسان کی طرف میں اللہ کا رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں۔یہ جو میں نے کہا ہے کہ پہلی کتاب پر جو اتہام لگائے گئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دور کیا ہے۔ایک اتہام تو دہر یہ عام لگاتے ہیں دہر یہ ہر طرف یہ تلوار چلا رہا ہے یعنی ایک طرف تو شیطان نے گند کو ان کتابوں میں داخل کر دیا اور دوسری طرف شیطان نے شیطانی دل کو کہا کہ یہ دیکھو نشانہ کی بڑی اچھی جگہ ہے یہاں جا کے تلوار چلاؤ۔گویا آپ ہی ٹارگٹ بنایا اور اس کے اوپر چلانے کے لئے آپ ہی گولیاں دیں۔شیطان نے یہ کارنامہ کیا۔دہر یہ کہتے ہیں کہ اللہ کوئی نہیں اور اس پر وہ جو دلیل دیتے ہیں وہ بہتوں کو گمراہ کرنے والی دلیل ہے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں وہ کہتے ہیں کہ آدم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ خدا ہے اور وہ خدا کا بندہ تھا اور اس کے اوپر شریعت نازل ہوئی تھی لیکن آدم تو ایسا تھا اور تورات سے وہ حوالہ دے دیں گے جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے۔داؤد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کا بندہ تھا لیکن وہ تو اس قسم کے اخلاق کا تھا وہ زانی تھا۔اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ فلاں شریعت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف۔