خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 420
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب قصور۔پھر زبور کا کیا قصور، تورات کی کتابوں میں اگر تم نے گند ملا دیا ہے تو اس میں تو رات کی کتابوں کا کیا قصور۔اس طرح دوسرے انبیاء جن کی شریعتیں بدلی ہوئی شکل میں موجود ہیں یا جن کو کسی وقت اللہ تعالیٰ نے بھلا دیا۔پرانے زمانہ کے جو شہر تھے اگر ان کی کھدائی سے کوئی اور شریعت بھی ہمارے سامنے آئے اور اس میں اس قسم کا گند ملا ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی بھی حفاظت کی ہے۔غرض عظیم احسان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلوں پر بھی اور اگلے آنے والوں پر بھی۔اگلوں کو کہہ دیا کہ اگر آپس میں اختلاف ہو تو خدا اور رسول کی طرف رجوع کرلیا کرو۔پس فیصلہ ہو گیا اور یہی بات پہلوں کو بھی کہی ہے کہ اگر کوئی گند کتاب کی طرف منسوب ہو تو خدا اور رسول کی طرف رجوع کر لیا کرو۔قرآن کریم کو دیکھ لیا کرو کیونکہ تمہاری کتاب میں جو سچائی تھی وہ قرآن کریم میں موجود ہے جو چیز تمہاری کتاب کی طرف منسوب ہوتی اور اس کتاب کو قابل اعتراض ٹھہراتی ہے اگر وہ قرآن کریم میں موجود نہیں تو تمہیں تسلی ہو تم خوش ہو جاؤ کہ وہ تمہاری کتاب کا حصہ نہیں تمہاری کتاب حقیقتا گندی نہیں تھی۔انسان نے اس کے اندر گند ملا دیا ہے۔غرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا عظیم احسان ہے پچھلوں پر بھی اور پہلوں پر بھی۔اس لئے اس معنی میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا۔قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ( بنی اسراءیل (۸۲) اللہ تعالیٰ اپنی عظمت اور جلال کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود اور قرآن عظیم کے نور میں کامل طور پر جلوہ فرما ہوا۔نور جو اس نور سے نہیں ملتا یا جو ظاہری چمک ہے اس کے پیچھے اس قسم کا اندھیرا ہے کہ وہ اس نور کا حصہ نہیں بن سکتا اور ہر وہ باطل جو پہلی شریعتوں میں دجل کے نتیجہ میں داخل کیا گیا تھا اس کے لئے اب کوئی جگہ نہیں۔قرآن کریم نے ان کتابوں کو بری قرار دے دیا ہے اب وہ ان کتابوں کے حصے نہیں سمجھے جائیں گے اسی لئے وید کی جوشکل ہے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں سخت تنقید کی ہے وہاں آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم سب اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ وید اپنی اصلی حالت میں خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی پر نازل ہونے والی کتاب تھی۔ہمارا اعتراض اس دجل پر ہے جو بعد میں انسان کے ہاتھ نے وید میں ملا دیا۔یہ اسی آیت کی تفسیر ہے۔کیونکہ یہاں فرمایا گیا تھا کہ اس دجل کے لئے اب کوئی جگہ