خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 157

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۷ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب کون ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ پر کھڑا ہو اور اس نے یہ دعویٰ داور کیا ہو کہ میں آپ سے زیادہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہوں اور پیارا ہوں اور میں آپ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی برکتوں کا حامل ہوں اور آپ کے مقابلہ میں میری یہ پیشگوئی ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے اس کو پورا بھی کیا ہو اور یہ ایک زبر دست نشانِ رحمت ہے۔یہ بھی بڑا عمدہ طریق فیصلہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میرا دعوی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کا مقرب ہوں اور تم کہتے ہو کہ میں (نعوذ باللہ ) شیطان ہوں اور شیطان لعین کا مقرب ہوں اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے زبر دست نشان مجھے عطا کئے ہیں اور بڑی برکتوں کے وعدے مجھے دیئے ہیں۔اب دو ہی صورتیں ہیں کہ اول تم اپنے رب سے کہو اور یہ برکتیں مجھے نہ ملیں یا اپنے رب سے یہ کہو اور ان سے بڑھ کر برکتیں تمہیں مل جائیں لیکن تم نے ایک رستہ کو اختیار نہیں کیا اور دوسرے رستہ کو قبول نہیں کیا اور اس طرح ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے دعاوی میں بچے ہیں کیونکہ کوئی شخص آپ کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے قرب کو ثابت نہیں کر سکا۔شاید تمام مذاہب عالم کو جو دعوتِ فیصلہ دی گئی ہے۔اس میں بعض اور باتیں بھی رہ گئی ہوں۔میں نے بتایا ہے کہ میں نے قریباً تینوں قسموں میں سے سوایسی باتیں لکھی تھیں اور اس خیال سے کہ وقت نہیں ہوگا۔میں بہت سارے حوالے گھر چھوڑ آیا ہوں۔میں نے تمام حوالے نکالے ہوئے تھے اور اس خیال سے کہ جو حوالے میں ساتھ لایا ہوں۔وہ بھی وقت کے اندر ختم نہیں ہوسکیں گے۔میں گھر سے اس بات کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو کر آیا تھا کہ جب وقت ختم ہو جائے گا۔میں یہ مضمون چھوڑ دوں گا کیونکہ یہ ایسی چیزیں ہیں جو بعد میں خطبات کے ذریعہ سے یا مضامین کے ذریعہ سے شامل کی جاسکتی ہیں لیکن بہر حال ان میں سے ایک ایک چیز ایسی ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حقانیت پر ایک مضبوط اور زبر دست اور زندہ اور قائم رہنے والی دلیل ہے اور ان میں سے ہر بات ایسی ہے۔جو ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ اپنے اس مہربان رب کو چھوڑ کر کسی اور طرف دنیا کے کسی لالچ کی وجہ سے مائل نہیں ہو جانا اور جھک نہ جانا۔ہمارا رب تم پر کتنا ہی احسان کرنے والا، کتنا ہی فضل کرنے والا ہے اور کتنی برکتیں اور