خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 156

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۶ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے۔عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا ( جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے آج یہ ذریعہ بھی استعمال کر رہا ہوں) میں تجھے اٹھاؤں گا اور اپنی طرف بلالوں گا۔پر تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اٹھے گا اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے نا کام رہنے کے در پے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں۔وہ خود ناکام رہیں گے اور نا کامی و نامرادی میں مریں گے لیکن خدا تجھے بکلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور میں ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔خدا انہیں نہیں بھولے گا۔( آپ بھی اپنے خدا کو نہ بھولیں ) اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علی حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے تو مجھ سے ایسا ہے۔جیسے انبیاء بنی اسرائیل تو مجھے ایسا ہے جیسی میری تو حید۔تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور وہ وقت آتا ہے۔بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دل میں تیری محبت ڈالے گا۔یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ( جیسا کہ ابھی پچھلے سال ہی گیمبیا کے گورنر جنرل نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈی اور برکت پائی)۔اے منکر و اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو۔اگر تمہیں اس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے۔جو ہم نے اپنے بندے پر کیا تو اس نشانِ رحمت ( یعنی مصلح موعود کی پیشگوئی اور یہ ساری پیشگوئیاں ) کی مانند (جو ان تمام پیشگوئیوں پر مشتمل ہے ) تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو اور اگر تم پیش نہ کرسکو (اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے ) تو اس آگ سے ڈرو کہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کے لئے تیار ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۹۷،۹۶)