خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 158

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۸ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب رحمتیں نازل کرنے والا ہے۔تم اسے نہ چھوڑو۔اس کے دامن سے ہمیشہ چمٹے رہو اور اس کے فضلوں کے ہمیشہ وارث بننے کی کوشش کرتے رہا کرو۔یہ دنیا تو عارضی چیز ہے اور ہر ایک نے یہاں سے گزر جانا ہے۔اُخروی زندگی کے سامان پیدا کرو۔اب یہ آخری بات ہے دعوتِ فیصلہ۔جو میں اپنے انتخاب کے لحاظ سے یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں اور اس کا تعلق تمام مذاہب عالم سے ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ اسلام کو تمام ادیانِ عالم کے مقابلہ میں غالب کرے گا اور اگر سارے مذاہب کے سر براہ اور ان کے علماء اور ان میں متقی قرار دیئے جانے والے اور بزرگ اور نیک اکٹھے ہو جائیں تمام مذاہب کے۔اور وہ میرے مقابلہ پر آ کر کھڑے ہوں۔وہ ایک چیز کے مستحق دعا کریں اور میں بھی اس کے متعلق دعا کروں تو ان تمام بزرگوں کی دعائیں رد کر دی جائیں گی اور میری دعا قبول ہو جائے گی۔آپ فرماتے ہیں:۔”خدا نے اس زمانہ میں ارادہ کیا ہے کہ اسلام جس نے دشمنوں کے ہاتھ سے بہت صدمات اٹھائے ہیں۔وہ اب سر نو تازہ کیا جائے اور خدا کے نزدیک جو اُس کی عزت ہے۔وہ آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ظاہر کی جائے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایسے بدیہی طور پر سچا ہے کہ اگر تمام کفار روئے زمین دعا کرنے کے لئے ایک طرف کھڑے ہوں اور ایک طرف صرف میں اکیلا اپنے خدا کی جناب میں کسی امر کے لئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا۔مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اُس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۴۰،۳۳۹) اسی طرح آج میں یہ کہتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک قیامت تک یہ دعوت مقابلہ جاری رہنی چاہئے اور جاری رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔اور میں آج کہتا ہوں کہ میرے نزدیک یہ دعوتِ فیصلہ قیامت تک جاری رہنے والی ہے اور انشاء اللہ جاری رہے گی کہ وہ تمام مذاہب جو اسلام کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور اپنے اپنے طور پر اپنے مذہب کو سچا قرار دیتے ہیں۔ان کے لئے آسان طریق یہ صلح کا طریق ہے۔یہ محبت اور پیار کا طریق ہے کہ وہ آئیں اور سب اکٹھے ہوں اور وہ دنیا کا کوئی