خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 605
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب نعرہ تو نہیں لگایا گیا۔اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا گیا ہے۔ہمارا یہ دعویٰ ہے اور ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا یہ دعویٰ درست ہے کہ قرآن کریم کا نیا علم اس زمانہ سے تعلق رکھنے والا علم او اس زمانہ کے مسائل کو سلجھانے والا علم حضرت مسیح موعود مہدی معہود کے ذریعہ ہم نے حاصل کیا ہے۔اس لئے ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ اسلامی سوشلزم کے متعلق رہنمائی کرنا یہ ہمارا کام ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کتابیں بھی لکھیں۔لیکچر بھی دیئے۔اپنی تفسیر کبیر میں بہت سی آیات قرآنیہ کی تفسیر بڑی وضاحت اور تفصیل سے بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ اسلامی سوشلزم کا کیا مطلب ہے۔اسلام ہر انسان کے جو حقوق قائم کرتا ہے اور ان کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہے وہ کون سے حقوق ہیں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں کی کمال نشو و نما کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کی رضا کو حاصل کرے۔دنیا کے آرام ، دنیا کی سہولتیں، طاقت کو قائم رکھنے کے لئے غذا کا ہونا۔حوادث زمانہ سے بچنے کے لئے حفاظتی سامان، رہنے کے لئے مکان کا ہونا تعلیمی سہولتیں میتر آنا۔یہ ساری ضمنی چیزیں ہیں البتہ روحانی ترقیات میں ممد و معاون ہیں۔اس سے ہمیں انکار نہیں۔اس لئے یہ چیز میں بھی ہمیں ملنی چاہئیں۔خود اسلام یہ کہتا ہے کہ یہ چیزیں ملنی چاہئیں اسلام کہتا ہے کہ ہم نے انسان کے حق کو قائم کیا ہے۔ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ دنیا میں جب تک ایک شخص بھی ایسا ہے کہ ہمارے قائم کردہ حقوق اس کو نہیں ملے۔وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کر کے سٹرائیکس کی خاطر باہر گلیوں میں آئے یا شرافت کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھا رہے۔اس کو اس کا حق ملنا چاہئے اور اگر نہیں ملتا تو دنیا میں کوئی غاصب اور ظالم امیر آدمی ہے جس نے اس کے حصہ کی دولت بھی اپنے گھر میں سمیٹ رکھی ہے۔قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے بعض دفعہ امیر آدمی ناراض ہو جاتے ہیں۔ہم تمہاری ناراضگی کی پرواہ کریں یا اپنے رب کی ناراضگی کی پرواہ کریں۔جو حقوق خدا تعالیٰ نے قائم کئے ہیں۔شرف انسانی کے متعلق اور انسان کی قوتوں کی صحیح اور کامل نشو ونما کے لئے وہ حقوق تو خدا نے قائم کئے ہیں۔میرا یا آپ کا یا کسی اور کا یہ کام نہیں ہے کہ ان حقوق کو کالعدم قرار دے دیں۔یہ انسان کا بنایا ہوا کوئی قانون نہیں ہے کہ جیسے ایک حکومت بناتی ہے اور دوسری آ کر بدل دیتی ہے۔ایک حکومت آج ایک قانون بناتی ہے اور ایک مہینے کے بعد کہتی ہے غلطی ہو گئی اس لئے وہ قانون بدل دیتی ہے۔اسے تو خدائے علام الغیوب نے اپنی کامل