خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 606 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 606

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۶ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب حکمتوں کے ساتھ ابدی صداقت اور ہدایت کے رنگ میں قرآن کریم میں شامل کر کے رحمۃ للعالمین کو الہام کر کے دنیا میں قائم کیا ہے۔یہ تو قائم ہو گا۔اب زمانہ آ گیا ہے کہ یہ قائم ہو۔جہاں تک کمیونزم پہنچا یا جہاں تک چین کا سوشلزم پہنچا اسلام اس سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔میں نے کئی سیاست دانوں سے جو بائیں طرف ( یعنی کمیونزم کی طرف جھکے ہوئے تھے کہا ہے کہ ایک مظلوم آدمی نے ایک مزدور نے ، ایک غریب آدمی نے تمہارا کیا قصور کیا ہے کہ تم باہر نکلے اور سٹیج پر جا کر تم نے یہ تقریر میں شروع کر دی ہیں کہ تمہاراحق تو سو پیسوں کا ہے لیکن تم پچاس پیسوں پر راضی ہو جاؤ۔قرآن اُسے سو پیسے دیتا ہے لیکن تم کہتے ہو ہم لیفٹسٹ (Leftist) تمہارے لئے پچاس پیسوں کا انتظام کریں گے۔یہ بات تو ٹھیک نہیں ہے۔کئی ایک کو یہ بات سمجھ آگئی اور کئی ایک کو مجھ نہیں بھی آتی ہوگی۔تا ہم ہمارا کام اُن کو بتادینا ہے۔میں کہہ یہ رہا ہوں کہ ہمارا ملک جب سے بنا ہے مظلوم ہی چلا آ رہا ہے۔پچھلے دو سال میں تو ظلم کی انتہا ہوگئی ہے۔بڑا دکھ ہوتا ہے۔میں بلا مبالغہ یہ کہتا ہوں کہ کئی راتیں تو میں سونہیں سکا کتنی سجیں ایسی آئی ہیں کہ جنہوں نے مجھے سارا دن پریشان رکھا۔اسی جلسہ سالانہ سے پہلے مجھے خیال آیا کہ کیا ظلم ہو رہا ہے اس قوم پر کسی کو آرام سے کام ہی نہیں کرنے دیتے۔دنیا میں اختلاف ہوا کرتے ہیں۔بھائی بھائی میں اختلاف ہو جایا کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوا کرتا کہ بھائی بھائی کی گردن اُڑا دے۔پس میں احباب جماعت سے کہتا ہوں کہ تم پیار سے ، عقل سے ، دلائل سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو کوئی آدمی نہیں جو تمہاری بات نہ مانے۔تمہاری بات اس لئے کوئی نہیں سنتا کہ انسانی فطرت سچی بات قبول کر لیتی ہے اس لئے کہتے ہیں کہ ان کی بات ہی نہ سنو۔اسی لئے کفار نے کہا کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم شور مچایا کرو تم کہتے ہو مرزائیوں کی کتابوں کو ہاتھ نہ لگاؤ۔تم ہاتھ لگاؤ، تم پڑھو، تم ہماری غلطیاں نکالو۔مجھ سے جب کبھی کوئی دینی عالم یا مولوی صاحب ملتے ہیں تو میں تو ان سے یہ نہیں کہا کرتا کہ آؤ میں تمہیں تبلیغ کروں۔بلکہ اس سے کہا کرتا ہوں کہ اگر میں غلط راستے پر ہوں تو تم مجھے سیدھے راستہ پر ڈال دو۔جب وہ بات شروع کریں گے تو خود ہی پتہ لگ جائے گا کہ کون حق پر ہے اور کون حق پر نہیں ہے۔اس لئے آپ بھی یہی کہا کریں۔جو ملے اس سے اس طرح تبلیغ کریں۔آخر ان کے نزدیک ایک احمدی کا یہ حق نہیں ہے