خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 604
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۴ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب خلاف گلیوں میں نکل آئے ہیں۔یہ آگ لگانے کی کوشش ہورہی ہے قتل وغارت کا بازار گرم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔جمہوریت کے ایک غلط معنی بھی اپنا لئے گئے کہ جمہوریت میں دس آدمیوں کو تو یہ اجازت ملنی چاہئے کہ وہ دوسرے دس آدمیوں کی دکانوں کو آگ لگا دیں مگر دوسرے دس آدمیوں کو یہ اجازت نہیں ملنی چاہئے کہ آگ لگانے والوں کے ہاتھ پکڑ لیں یا اُن کو سرزنش کر سکیں۔اب ساری کوشش یہ ہے کہ مسائل کو آپس میں خلط ملط کر دیا جائے اور ملک کو کسی قسم کا فائدہ نہ پہنچ سکے۔چند مہینے یا چند سال کی حکومت ہے۔تم حکومت سے ہزار اختلاف کر سکتے ہو اُن کا برملا اظہار بھی کر سکتے ہو۔جمہوریت میں تمہیں اظہار خیال سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن تم ان کو کام کرنے کا موقع تو دو۔اگر تمہارے نزدیک ایک سال کے اندرہی ان کی ناکامیاں ظاہر ہوگئی ہیں تو چار سال تک انتظار کرو۔اگر تمہاری بات درست ہے تو ان کو ایک ووٹ بھی نہیں ملے گا۔پھر تو تمہیں ووٹ زیادہ مل جائیں گے۔تم حکومت بنالینا لیکن صبر کے ساتھ اور تحمل کے ساتھ کسی کو کچھ عرصہ کام کرنے کا تو موقع دو۔جیسا کہ پچھلے جلسہ سالانہ پر بھی میں نے بتایا تھا ہم پر یہ اعتراض کر دیا کہ احمدی بڑے بیوقوف ہیں۔کسی نے کہا بڑے دھوکہ باز ہیں۔کسی نے کہا ملک کے بڑے غدار ہیں۔اسلام کا نام لیتے ہیں اور دہریوں اور سوشلسٹوں کو ووٹ دیتے ہیں۔میں نے اس اعتراض کا جواب دے دیا تھا۔جواب تو میں نے دے دیا تھا۔ان کا منہ بند کرنے کے لئے۔میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر تمہاری یہ بات سچ ہے کہ ہماری وجہ سے پیپلز پارٹی کو زیادہ ووٹ ملے اور ان کی حکومت قائم ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے تو تم صبر سے کام لو۔ہم میں اتنی طاقت ہے کہ ہم ان کو کمیونسٹ بھی نہیں بنے دیں گے۔خیر یہ تو ایک ایسا جواب تھا جو ان کے منہ بند کرنے کے لئے میں نے دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی اپنی تقدیر چلتی ہے۔مدتوں کی غلط باتیں تو فوراً صحیح نہیں ہو جاتیں۔ابھی پچھلے دنوں پیپلز پارٹی کا جو کنونشن ہوا ہے۔اس میں بھٹو صاحب نے بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ میں نے کبھی بھی کسی سے کمیونزم کا وعدہ نہیں کیا تھا۔کوئی شخص کھڑا ہو جائے اور بتائے کہ میں نے ایسا وعدہ کیا تھا مگر کسی کو بولنے کی جرات نہ ہوئی۔پھر جیسا کہ میں نے کل بھی بتایا تھا۔اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا۔اسلامی سوشلزم ہے کیا ؟ کچھ لوگوں کو اس کا کچھ پتہ ہے اور کچھ کو اس کا کچھ بھی پتہ نہیں ہے لیکن نیت درست ہے۔کمیونزم کا