خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 564

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۶۴ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب آ رہی ہے یہ آپ خرچ کر دیں گے تو سرمایہ کم ہو جائے گا۔اس واسطے جس طرح ہم نے فضل عمر فاؤنڈیشن میں کیا ہے اس طرح آپ بھی کریں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کو نفع مند کا موں پر پیسے لگانے کا کافی تجربہ ہو چکا ہے۔اگر آپ چاہیں تو ہماری خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔جمع شدہ رقم تجارت پر لگا دیں اس سے جو فائدہ حاصل ہو اس کو اپنی سکیم پر خرچ کریں۔اسی طرح مکرم کرنل عطاء اللہ خاں صاحب جو فاؤنڈیشن کے وائس چیرمین ہیں انہوں نے بھی مجھے یہی مشورہ دیا۔میں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ چوہدری صاحب مکرم ! جن کمپنیوں میں آپ یہ رقم لگائیں گے ، وہ مجھے آٹھ فیصد یا دس فیصد یا بارہ فیصد یا زیادہ سے زیادہ پندرہ فیصد نفع دیں گی اس سے زیادہ تو نہیں دیں گی۔میں نے بھی ایک تجارت سوچی ہے جس کے ساتھ میں تجارت کرنا چاہتا ہوں وہ مجھے سو فیصدی سے بھی زیادہ نفع دے گا۔(نعرے) چنانچہ میں نے اپنے رب کریم پر بھروسہ رکھتے ہوئے وہ تمام سرمایہ جو آپ کی طرف سے میرے ہاتھ میں دیا گیا تھا نصرت جہاں سکیم پر خرچ کر دیا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے میں خرچ کرتا چلا گیا یہاں سے ڈاکٹر بھیجے۔جن میں سے اکثر بیوی بچوں سمیت بھجوائے گئے تاکہ ان کا وہاں دل لگا رہے اور وہ ٹھیک طرح سے کام کر سکیں۔ایک ایک ڈاکٹر اور ان کے خاندان پر صرف کرائے کے طور پر دس دس پندرہ پندرہ ہزار روپے خرچ آئے۔اس کے علاوہ سکول ٹیچر بھجوائے گئے جن میں سے بعض کے بیوی بچے بھی ساتھ بھجوائے گئے جو سامان ہم ان کو باہر سے بھجوا سکتے تھے وہ بھی بھجوایا یعنی کچھ یہاں سے کچھ غیر ملکوں نے دیا ہوا ہے۔وہ سب ان کو بھجوایا گیا۔اس عرصہ میں ایک لمحہ کے لئے بھی میرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ میں پیسے خرچ کر رہا ہوں ختم ہو جائیں گے تو اور پیسے کہاں سے آئیں گے۔چنانچہ ہر ہفتے خرچ کی رپورٹیں میرے پاس آتی ہیں میں ان کو ایک دن دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری توجہ اس طرف پھیری گئی کہ پاکستان میں اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو تسلی دلانے کے لئے دس لاکھ روپے کا ریز رو بنا دیا ہے۔الحمد للہ۔اور میرا کوئی خرچ ایسا نہیں جو میرے اصل سرمائے کو دس لاکھ سے نیچے لے آئے۔ثم الحمد لله اور اسی طرح غیر ممالک میں میرا کوئی ایسا خرچ نہیں جو میرے اس ریز رو کو وہاں کے لحاظ سے پندرہ ہزار پاؤنڈ سے نیچے لے آئے۔یعنی اگر کسی ایک مہینے میں یا دو مہینے میں ایک لاکھ روپے خرچ کیا اور فی الواقع