خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 563 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 563

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۶۳ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ مومن خدا کی راہ میں اپنے اموال خرچ کر کے گویا اللہ تعالیٰ سے ایسی تجارت کرتے ہیں جن میں نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ! سے بہت زیادہ نفع بھی دیتا ہے ا ہے۔چنانچہ جماعت نے جو رقم دی وہ بھی گواللہ تعالیٰ سے تجارت کے مترادف ہے لیکن جب وہ رقم ہمارے پاس آئی تو میں نے سوچا کہ اس رقم سے بندوں سے تجارت کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے تجارت کی جائے۔یعنی انفرادی حیثیت میں بھی وہ ایک تجارت ہے۔قرآن کریم نے بھی اس کا نام تجارت رکھا ہے اور یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں پیسے کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔نفع کی بعض شکلیں ہیں جن کے ضائع ہونے کا تو کوئی خطرہ نہیں لیکن جن کے جائز ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے لیکن جو تجارت ہے اس میں دونوں چیزیں ساتھ لگی ہوئی ہیں۔اس میں نفع بھی ملتا ہے اور بعض دفعہ نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔پیسے بھی ضائع ہو جاتے ہیں یعنی سرمایہ بھی جاتا رہتا ہے لیکن روحانی دنیا میں انسان اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی تجارت کرتا ہے جس میں لَنْ تَبُور کی رو سے گھاٹا نہیں پڑتا ، جس میں پیسے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ جو عام نفع ہے وہ بھی ملتا ہے۔پس فرمایا لِيُوَفِّيَهُمْ أَجُورَهُمُ یعنی معمول کے مطابق جو نفع ہوتا ہے وہ بھی تمہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا لیکن وہ اسی پر بس نہیں کرے گا۔دنیا میں ڈیویڈنڈ (Dividend) دینے والی جو کمپنیاں ہیں وہ کوئی پانچ فیصدی کوئی آٹھ فیصدی کوئی دس فیصدی کوئی بارہ فیصدی یا زیادہ سے زیادہ پندرہ فیصدی نفع دینے کا اعلان کرتی ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ بھی میں دوں گا اس کے علاوہ جو بندوں کا معمول نہیں اور جو نفع دینے کا میرا معمول ہے وہ بھی میں دوں گا۔اگر تمہارا اخلاص غیر معمولی اخلاص ہو گا تو میری طرف سے تمہارے اموال میں غیر معمولی زیادتی بھی ہوگی۔میں تمہیں بہت زیادہ مال دوں گا۔پس اس آیت کا میرے دماغ پر اثر تھا۔چنانچہ جب یہ رقمیں جمع ہونی شروع ہوئیں تو ایک موقع پر مکرم محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے میرے پاس آ کر بڑے اخلاص سے اور بڑے پیار سے اور بڑے اصرار کے ساتھ یہ کہا کہ آپ کے پاس نصرت جہاں ریز روفنڈ کی جو رقم