خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 565
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار خرچ کیا ہے مثلاً قرآن کریم خریدے گئے یا دوسرے اخراجات کرنے پڑے تب بھی اگر دس لاکھ سے رقم ایک ہزار کم ہوگئی تو بڑی جلدی ہی دس لاکھ سے اوپر چلی گئی۔ایک تو یہ چیز ہے جو میرے مشاہدہ میں آئی۔اللہ تعالیٰ اس طرح فضل کرنے والا ہے چنانچہ میں اور بھی دلیر ہو گیا۔چنانچہ میں نے خرچ کیا اور خدا کے نام پر اور اس کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے کے لئے دل کھول کر خرچ کیا۔ہم نے وہاں جو طبی مراکز اور تعلیمی ادارے کھولے ( زیادہ تر طبی مراکز تھے ) ان سے اللہ تعالیٰ نے پتہ ہے کیا نفع دیا؟ ہم نے ان کے اجراء پر اپنے سرمایہ سے بارہ اور پندرہ لاکھ کے درمیان خرچ کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس رقم پر ان اداروں کی بدولت ہمیں ۶۳۵ ،۱۶، ۳۵ روپے نفع دیا۔الحمد لله علی ذالک فضل عمر فاؤنڈیشن نے اپنا سرمایہ دنیا کی تجارت پر لگایا اور دنیا کے معمول کے مطابق ان کو سات سال میں آٹھ لاکھ روپے نفع ملا اور ہم نے اللہ کے ساتھ ایک تجارت کی اور اس پر کامل بھروسہ کیا اور اس کی مخلوق کی خدمت میں پیسے کے لحاظ سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور نہ ہمارے دل میں کوئی خوف پیدا ہوا۔چنانچہ وہ جو سارے خزانوں کا مالک ہے اس نے صرف پندرہ مہینے کی کوشش میں ( سات سال نہیں ) پینتیس لاکھ سے زائد ہمیں نفع عطا فرمایا۔ہمارا سرمایہ بھی محفوظ ہو گیا اور خدمت کے کام بھی جاری ہو گئے۔ہم نے پھر یہ نفع اپنے پاس تو نہیں رکھنا تھا۔چنانچہ ہم نے پینتیس لاکھ میں سے تھیں لاکھ کی رقم وہاں کے اداروں ( طبی مراکز اور تعلیمی اداروں پر خرچ کر دی۔اس وقت سولہ ہیلتھ سنٹرز مغربی افریقہ کے چار ملکوں میں کام کر رہے ہیں اور گیارہ ہائر سیکنڈری سکولز یعنی انٹر میڈئیٹ کا لجز کام کر رہے ہیں۔ان کے اوپر ہم نے تمہیں لاکھ روپیہ خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں پینتیس لاکھ کا فائدہ پہنچایا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا پورا سرمایہ محفوظ ہے۔تمہیں لاکھ روپے ان ممالک میں آپ نے رفاہ عامہ کے کاموں پر خرچ کیے اور نفع میں سے پانچ لاکھ سے زیادہ آپ کے پاس محفوظ ہے اور اس پر کوئی زیادہ عرصہ بھی نہیں گذرا۔صرف پندرہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا ہے۔پس یہ فرق ہے جو تجارت میں رونما ہوا۔اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا اور بڑا پیار کرنے والا ہے ہمیں اس کا شکر کرنا چاہئے۔جیسا کہ میں بتایا ہے ہم ان کی خدمت کے