خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 44
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب سے ہی پاتے ہیں ہمیں جو فیض پہنچ رہا ہے۔وہ دراصل آنحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض ہی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صرف واسطہ ہیں جو درمیان میں پیدا ہو گیا ہے ہم بھول گئے تھے آپ ہمیں یاد کرانے کے لئے آئے غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا صدمہ ایسا تھا جو آج تک بھی انسانیت بھلا نہیں سکی اور نہ قیامت تک انسان اسے بھول سکتا ہے اس کے مقابلہ میں جو صدمہ آج ہمیں پہنچا ہے وہ کم نظر آتا ہے اور ہماری نگاہیں جب چودہ سو سال قبل کی طرف جاتی ہیں تو ہمارے دلوں میں یہ اطمینان اور سکون پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بھاری صدمہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے ابو بکر کو کھڑا کیا تھا اور اس نے سب صحابہ کو یہ کہتے ہوئے تسلی دی تھی مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَّا يَمُوتُ اس لئے ہم بھی آج یہی کہتے ہیں مَنْ كَانَ مِنْكُمُ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَّا يَمُوتُ یہ آپ تسلی رکھیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گا اس کا جو فیصلہ آسمانوں پر ہو چکا ہے وہ زمین پر ضرور پورا ہو گا جب تک ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں گے اور پھر اس ایمان پر قائم رہیں گے وہ بھی ہماری مدد اور نصرت کو اسی طرح آتا رہے گا جس طرح کہ وہ پہلے آتا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں ہم پر اسی طرح نازل ہوتی رہیں گی جیسا کہ وہ پہلے نازل ہوتی رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے علموں کو اسی طرح فراست اور نور بخشتا ر ہے گا جیسا کہ وہ پہلے بخشتا رہا ہے خدا تعالیٰ کی مدد کے متعلق یہ نہ سمجھو کہ وہ پیچھے رہ گئی ہے اور آگے نہیں چلے گی وہ آئندہ بھی ہمیں ملتی رہے گی۔ہم اس کی ذات سے مایوس نہیں بلکہ ہمارا اللہ تعالیٰ کی ذات پر تو کل ہی ہے جو ہمیں زندہ رکھ رہا ہے ورنہ جس طرح اس باپ نے ہم سے شفقت کی اور جس طرح ہم بچوں نے اس سے پیار کیا صرف اسے دیکھا جائے تو آج ہمارے دل ٹوٹ جاتے ہمارے دل بند ہو جاتے اور ہم ایک سیکنڈ کے لئے بھی زندہ نہ رہ سکتے۔غرض ہمیں آج صدمہ بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ بھی ہے اور یقین بھی ہے کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور ان دو چیزوں کی ملاوٹ کی وجہ سے ہمیں زیادہ شدت کے ساتھ اپنی جدو جہد کو جاری رکھنا چاہئے اور اپنی کوششوں کو پہلے سے بہت زیادہ تیز کردینا چاہئے تا وہ دن جس کی آمد کے انتظار میں ہی ہمارا آقا اس جہاں سے رخصت۔