خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 43
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب غرض را تیں اس نے جاگ کر گزار ہیں اور دنوں کے متعلق تو میں ذاتی طور پر گواہی دے سکتا ہوں کہ مہینوں کے بعد مہینے اور سالوں کے بعد سال گذرے جن میں آپ نے کم از کم اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے روزانہ کام کیا۔آپ نے ہر قسم کا دکھ اُٹھایا تا کہ ہم سکھ میں رہیں ہر قسم کی تکلیف برداشت کی تا کہ ہمیں کوئی غم نہ پہنچے ہر قسم کا بار اٹھایا تا ہمارے بار کو ہلکا کر جائیں۔آپ کے احسان اتنے ہیں کہ نہ میں انہیں گن سکتا ہوں اور نہ آپ گن سکتے ہیں پھر آپ خدا کی منشاء، اور اس کی مرضی کے مطابق سات اور آٹھ نومبر کی درمیانی شب ہم سے جدا ہو گئے اس صدمہ کی وجہ سے ہمارے دلوں پر جو گذر رہی ہے وہ تو ہم ہی جانتے ہیں اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی میں انہیں بیان کرنے کی اس وقت جرات کروں گا۔آج ہمارے دلوں کو اگر کوئی چیز سہارا دے سکتی ہے آج اگر کوئی چیز ہمارے دلوں کے لئے ڈھارس بن سکتی ہے تو وہ حضرت ابو بکر صدیق کا وہی قول ہے جو آپ نے چودہ سو سال قبل کہا اور ایسے موقع پر کہا جو اس واقعہ سے بہت بڑا تھا اور دور رس تھا وہ دنیا کے لئے اور پھر قیامت تک کے لئے ایک زلزلہ تھا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاک وجود اس دنیا سے اٹھ گیا اس کو یاد کر کے سارے غم بیچ ہو جاتے ہیں اسی عظیم غم کے وقت ہی خدا تعالیٰ کے اس بندے نے کہا تھا۔مَنْ كَانَ مِنْكُمُ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَّا يَمُوتُ ( بخارى کا لنبی صل اللہ علیہ وسل الی کسی قیصر با مرض لنبی صلی اللہ علیہ علم و داتا کہ تم میں سے جو شخص اپنے خدا کی پرستش کرتا ہے اسے یقین کرنا چاہئے کہ ہمارے خدا کی ذات حی و قیوم ہے۔پھر ہمارا خدا بڑی وفا کرنے والا ہے۔وہ ہم سے اس صدمہ کے وقت بے وفائی نہیں کرے گا اور ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ ہماری دعاؤں اور کوششوں کے نتیجہ میں ہر آن اور ہر لحظہ ہماری مدد اور نصرت کرے گا۔اصل میں ہماری ساری بڑائیاں اور ساری خوبیاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں اور ہماری ہر چیز ظلی اور ذیلی ہے۔امت محمدیہ میں بڑے بڑے وجود پیدا ہوئے ہمارے نزدیک ان میں سے سب سے بڑھ کر وجود خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں لیکن آپ نے بھی یہ فرمایا ہے کہ میں نے جو کچھ پایا خدا کے بندے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پایا ہے اور ہم احمدی آپ کے ذریعہ جو کچھ پاتے ہیں وہ حقیقتا آ نحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات