خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 45

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب ہو گیا وہ جلد تر آجائے اور اسلام تمام دنیا پر غالب آجائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے تمام اقوام عالم کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔اس کے بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے متعلق جو آپ نے مصلح موعود کے متعلق فرمائی بعض باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ بہت سے احمدی بھائی اور بہنیں قریب ہی عرصہ میں احمدیت میں داخل ہوئی ہیں اور بہت سے بچے نئے نئے نوجوان ہوئے ہیں۔اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ مختصر شروع سے ہی اس پیشگوئی کولوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۲۰ فروری ۱۸۸۰ء کو ایک اشتہار دیا جو عام طور پر ہماری جماعت میں ”سبز اشتہار کے نام سے موسوم ہوتا ہے اس اشتہار میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قدرت، رحمت اور قربت کے نشان کی ایک پیشگوئی فرمائی ہے جو ایک صالح فرزند کے تولد کے بارہ میں تھی جس نے ان صفات کے مطابق پیدا ہونا تھا جن کا ذکر اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں کیا گیا تھا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا“ (اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ نمبر ۹۸) گویا سبز اشتہار میں جس فرزند جلیل کی پیشگوئی کی گئی تھی۔اس کے متعلق حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے وہ نو برس کے اندر اندر ضرور پیدا ہو جائے گا اور یہ دعوئی آپ ؟ نے اپنی طرف سے نہیں کیا۔بلکہ فرمایا میرا یہ کہنا بموجب وعدہ الہی ہے۔بعض غیر مبائعین اس پیشگوئی کی غلط تاویلیں کرتے ہیں۔انہیں خاموش کرانے کے لئے یہ ایک فقرہ ہی کافی ہے کہ بموجب وعدہ الہی نو برس کے عرصہ میں ضرور پیدا ہو گا پھر اس نشان آسمانی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں۔" مفہوم پیشگوئی کا اگر بنظر یکجائی دیکھا جاوے تو ایسا بشری طاقتوں سے بالا تر ہے۔جس کے نشان الہی ہونے میں کسی کو شک نہیں رہ سکتا اور اگر شک ہو تو ایسی قسم کی پیشگوئی جو ایسے ہی نشان پر مشتمل ہو پیش کرے۔اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف