خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 536
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳۶ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطا لجنہ اماءاللہ مرکز یہ اپنی تاریخ دو جلدوں میں پہلے شائع کر چکی ہے۔تیسری جلد اب شائع کی گئی ہے۔اسی طرح تاریخ احمدیت شائع ہو رہی ہے۔یا بعض مضامین اخباروں میں شائع ہوتے ہیں۔تاریخی مواد ہمیں دو وجوہات کی بنا پر شائع کرنا چاہئے اور اس کے دو فائدے ہیں جن کو سامنے رکھ کر اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ایک تو یہ کہ ہر تاریخی کتاب ایک خاص زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔پس ہمارے سامنے ہماری نوجوان نسلوں کے سامنے اور ہم میں نئے شامل ہونے والوں کے سامنے یہ بات آتی رہنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مخصوص زمانہ میں ہم پر کتنے بے انتہاء فضل نازل فرمائے ہیں۔تا کہ ہم علی وجہ البصیرت خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا عرفان حاصل کریں اور ہم اپنی روح کی گہرائی سے اپنے رب کریم کی حمد کرنے والے ہوں۔دوسرے یہ کہ ہر تاریخی زمانہ اگلے زمانہ کے لئے ایک سیڑھی بنتا ہے۔اگر آپ پہلی سیڑھی پر قدم نہیں رکھیں گے تو دوسری سیڑھی پر بھی قدم نہیں رکھ سکیں گے۔اس لئے پہلی سیڑھی پر قدم رکھنا ضروری ہے۔یعنی ایک خاص گذرے ہوئے زمانہ کے حالات کا علم حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کو آپ سمجھ سکیں اور اُن سے کما حقہ، عہدہ بر آہو سکیں۔اس لئے جلسہ سالانہ کے موقع پر اس دوسری تقریر میں جب سلسلہ احمدیہ اور دنیا کے متعلق عام باتیں بیان کی جاتی ہیں۔تو ساتھ ہم یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ ہماری یہ کتب شائع ہوئی ہیں یا یہ ہمارے اخبارات ورسائل ہیں۔جماعت کے دوست خصوصاً نو جوان اور جماعت میں نئے نئے شامل ہونے والے حصہ کو چاہئے کہ وہ ان کو خریدے اور ان سے فائدہ اُٹھائے۔کسی وقت عیسائی دنیا اور دوسری دنیا نے کہا تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے انہوں نے یہ غلط کہا تھا لیکن اپنے دجل کے ذریعہ اسلام کے ابتدائی زمانہ کو ہم بنا دیا تھا پھر حضرت مہدی معہود آئے انہوں نے اعلان فرمایا سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے ( در مشین صفحہ ۱۷) چنانچہ قلم سے ہم نے اس اعتراض کو دور کیا اور ثابت کیا کہ اسلام کو پھیلانے کے لئے طاقت اور تلوار کی ضرورت نہیں ہے۔ہمیں اس بارہ میں پوری معلومات حاصل کرنی چاہئیں ہم قلمی جہاد میں بھر پور حصہ لے سکتے ہیں۔غرض جو اخبارات اور رسائل جاری ہیں یا دورانِ سال ، جو کتب نئی شائع ہوئی ہیں یا نئے