خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 537 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 537

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳۷ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطا۔سرے سے شائع ہوئی ہیں ان کے متعلق دوستوں کو توجہ دلانے کے لئے میں اس وقت اعلان کروں گا۔تا کہ دوست ان کو خریدیں اور ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔پہلے میں روز نامہ الفضل کو لیتا ہوں اخبار الفضل کی اشاعت اتنی نہیں جتنی ہونی چاہیے۔پھر رسالہ تحریک جدید ہے۔یہ ایک خاص طبقہ کے لئے بہت ہی مفید ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں خدمت اسلام بجالانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔چنانچہ غیر ممالک میں اسلام کی تبلیغی جد و جہد اور اس کی کامیابی یعنی غیر ملکوں میں اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا فضل اور احسان کر رہا ہے یہ رسالہ اس کی بعض جھلکیاں پیش کرنے کے لئے مخصوص ہے۔پھر ماہنامہ انصار اللہ ہے جس کا تعلق جماعت کے اس حصہ سے ہے جن کو میں بوڑھے کہنے کی بجائے ”جوانوں کے جوان“ کہا کرتا ہوں۔اس لئے جوانوں کے جوان اس میں دلچسپی لیں۔پھر ماہنامہ ” خالد ہے جو خدام الاحمدیہ کا رسالہ ہے۔تفخیذ الا ذہان ہے۔الفرقان ہے۔ان سب کی اشاعت کی طرف تو نہیں کہنا چاہئے ان سے فائدہ اٹھانے کی طرف جماعت کو توجہ دینی چاہئے۔نظارت اشاعت لٹریچر و تصنیف کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب چشمہ معرفت دوبارہ شائع ہوئی ہے۔ایک نئی کتاب بھی شائع کی گئی ہے۔اس کو میں نے ہی اپنی نگرانی میں ایڈٹ (Edit) کروایا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر کبیر میں قرآن کریم کی بہت سی ایسی آیات کی تفسیر بھی شائع ہو چکی ہے۔( تفسیر کبیر سارے قرآن کریم کی تفسیر پر مشتمل نہیں تاہم قرآن کریم کے جتنے حصہ کی تفسیر کی گئی ہے اس میں سے ) جن آیات میں حقوق العباد کا ذکر ہے یا یتامی ، بیوگان اور غرباء کی پرورش کا ذکر ہے اس کو الگ کر کے کتابی صورت میں شائع کر دیا گیا ہے۔اب قوم یوں تو اس وقت عوامی حکومت اور اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگا رہی ہے۔مگر اسلام نے اس سلسلہ میں جو احکام بیان فرمائے ہیں ان کی طرف کسی کو کما حقہ، توجہ نہیں ہے۔اس لئے یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ان کی راہنمائی کریں اور ان کو بتائیں کہ اسلامی سوشلزم میں اسلام کا حصہ کیا ہے کیونکہ اسلامی سوشلزم میں سوشلزم تو بعد کی بات ہے پہلے تو لفظ ”اسلامی“ کو دیکھنا ضروری ہے خود یہ فقرہ بھی ہمیں یہی بتا رہا ہے۔غرض سوشلزم کے متعلق اسلام کیا کہتا ہے یہ ہم نے بتانا ہے۔چنانچہ یہ کتاب خدا تعالیٰ کے فضل سے شائع ہو گئی ہے۔اس کا نام رکھا گیا