خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 535 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 535

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳۵ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار ہونے والا ہے۔چنانچہ ان کی کچھ کتب جو پہلے نایاب تھیں مجھے پتہ لگا کہ دوبارہ شائع ہوئی ہیں۔میں نے ان کی کتابیں منگوائیں ان کو پڑھا۔بعض اور دوستوں کو بھی پڑھوائیں تو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی بعثت کی غرض یہ بتائی کہ ان کے علاقہ میں مسلمانوں کے اندر جو بری رسوم پیدا ہوگئی ہیں ان کو دور کرنے اور سنت نبوی کو قائم کرنے کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں۔ان کا تعلق قریباً ایک صدی کے زمانہ کے ساتھ تھا۔کیونکہ ایک صدی کے بعد خود ان کے ماننے والوں میں بری رسوم پیدا ہو گئیں۔پس زمانہ کے لحاظ سے ان کی خدمات دینیہ کا اثر باقی نہیں رہا۔مکان کے لحاظ سے انہوں نے اپنی کتب میں صرف انہی بدعات کا ذکر کیا ہے جو ان کے اپنے علاقہ کے مسلمانوں کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں۔پس جس قسم کا مجدد یا مصلح یا ولی اللہ تھا اس کی تقریر و تحریر میں ہمیں اسی قسم کا مواد ملتا ہے۔چنانچہ حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند اور ایک عظیم خادم ہیں۔آپ کا زمانہ آپ کی ماموریت سے قیامت تک ممتد اور مکان کے لحاظ سے ساری دنیا پر محیط ہے۔اس لئے آپ کی کتب میں ہمیں وہ سارا مواد ملتا ہے یا مجھے یوں کہنا چاہئے کہ حضرت مہدی معہود و مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ ارشادات کی روشنی میں قرآن کریم کی تفسیر جابجا بیان فرمائی ہے اس میں وہ مواد ہے جس میں کہیں تفصیل کے ساتھ اور کہیں اختصار کے ساتھ انسان کی معاشرتی اقتصادی ، سیاسی ، اخلاقی اور روحانی زندگی کے تمام مسائل کا حل موجود ہے جو قیامت تک کسی نہ کسی وقت اور کسی نہ کسی شکل میں نوع انسان کے سامنے آنے والے تھے۔اس لئے جماعتی طور پر جو اچھا اور مفید لٹریچر کتب کی شکل میں اخبارات کی شکل میں یا رسائل کی شکل میں شائع ہوتا ہے وہ حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کی کتب کی روشنی میں ہے یا خود آپ کی کتب دوبارہ شائع ہوتی ہیں۔کیونکہ ہم نے سلسلہ کے لٹریچر کو ( یعنی کتب و رسائل وغیرہ ) کونئی نسل کے ہاتھ میں پہنچانا ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب تو چھپتی رہیں گی۔کیونکہ آپ کی کتب میں قرآن کریم کی آیات اور اس تفسیر کی روشنی میں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے قیامت تک کے مسائل کا حل پایا جاتا ہے۔علاوہ ازیں ہم کچھ تاریخی مواد چھاپتے ہیں۔مثلاً