خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 534
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳۴ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب --------- خدمت کی مثلاً بدعات وغیرہ کا قلع قمع کیا۔زمانہ کے لحاظ سے ان مجددین کا ایک سلسلہ ہے جو صدی کے سر پر مبعوث ہوتے رہے اور صدی کے سر پر ایک سے زائد مجدد بھی پیدا ہوتے رہے۔جیسا کہ مجددین کی تاریخ سے ہمیں پتہ لگتا ہے۔سب سے وسیع مکان خدمت ان کو ملا جنہیں اپنے ملک میں اسلام کی خدمت کی ذمہ داری سونپی گئی۔پس یہ مختلف قسم کے درجات ہیں جن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام بٹے ہوئے ہیں۔پھر جیسا کہ قرآن کریم میں بشارت دی گئی تھی اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں وضاحت سے امت محمدیہ کو یہ بتایا گیا تھا۔اپنے وقت پر مہدی علیہ الصلوۃ والسلام ظاہر ہوئے۔اسلام کی جو خدمت آپ کے ذمہ لگائی گئی وہ زمانہ کے لحاظ سے آپ کی ماموریت سے لے کر قیامت تک ممتد ہے اور مکان کے لحاظ سے اس نے آپ کے ملک یعنی برصغیر پاک و ہند سے لے کر ساری دنیا کے ملکوں پر احاطہ کیا ہوا ہے۔گویا یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو مہدی معہود کی خادمانہ حیثیت اور آپ سے پہلے بزرگوں کی خادمانہ حیثیت میں ہمیں نظر آتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا اور یہی ہوا کہ جو مجدد ایک صدی کے لئے آیا اس کی تحریرات اور کلام میں صرف اس قدر مسائل اور ان کا حل ہمیں نظر آتا ہے جن کا جس قدر اس صدی کے ساتھ تھا اس سے اگلی صدی کے ساتھ ان کا تعلق نظر نہیں آتا۔جو مجد دا یک خاص علاقے کے لئے آیا تھا۔اس کا کلام اس کی کتب اور اس کی تقاریر و تحریر اس خاص علاقے کی مذہبی برائیوں کو دور کرنے سے تعلق رکھتی تھیں۔مسلمانوں میں مذہبی برائیاں اور غیر مسلموں کے ذہنوں میں اسلام کے خلاف جو چیزیں پیدا ہو گئیں تھیں۔ان برائیوں کو دور کرنا اور اسلام کے خلاف اعتراضات کا جواب دینا عموماً اس کی غرض بعثت میں شامل نہیں ہوتا تھا۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک صدی قبل نائیجیریا کے شمالی علاقے میں جس کا ایک حصہ اس وقت نائیجیریا میں شامل ہے اور کچھ حصہ شمال کی طرف بعض دوسرے ملکوں میں شامل ہو گیا ہے۔لیکن پہلے وہ ایک علاقہ تھا جہاں ایک مجدد پیدا ہوئے جن کی وفات غالباً ۱۸۱۸ء میں ہوئی ہے۔انہوں نے یہ اعلان کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس علاقے میں مسلمانوں میں جو بدعات شنیعہ پائی جاتی ہیں ان کو دور کرنے کے لئے مبعوث کیا ہے ان کے مجددیت کے دعوئی سے قبل وہاں اس زمانہ کے علماء کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کا ایک مصلح پیدا