خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 533
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳۳ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار اللہ سے تجارت ایک ایسی تجارت ہے جس میں پیسے کے ضیاع کا کوئی خطرہ نہیں دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء بمقام ربوہ کی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انفلوئنزا کا اثر گلے پر کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔بہر حال کوشش کروں گا کہ جو کچھ میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ میری آواز میں آپ تک پہنچ جائے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اور آپ کے وجود کی خاطر اس سارے عالم کو پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے آپ کی برکات ماضی کی طرف بھی اسی طرح بہتی رہی ہیں۔جس طرح کہ وہ مستقبل کی طرف بہتی رہی ہیں اور بہتی رہیں گی۔ماضی کی طرف ان کا جو رخ ہے وہ ایک دقیق مضمون پر مشتمل ہے۔عام فہم نہیں رہتا اس لئے ماضی کے متعلق خاموشی اختیار کرتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے۔قرآن کریم کی شریعت اپنے پورے جلال کے ساتھ اور اپنی پوری ہمہ گیری کے ساتھ قیامت تک کے انسانوں کے لیے بھیجی گئی ہے اور انسان نے اس سے جسمانی ، مادی ، اخلاقی اور روحانی فوائد حاصل کرنے ہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قریباً تیرہ سو سال گذرنے پر حضرت مہدی معہود علیہ السلام کا ظہور ہوا۔اس عرصہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رب کریم کی طرف سے فدائی خدام عطا کئے گئے۔چنانچہ اسلامی تاریخ پر جب ہم اس نقطہ نگاہ سے نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے فدائی خدام زمان و مکان ہر دولحاظ سے مختلف درجات میں بٹے ہوئے ہیں۔بھی آپ کو کوئی ایسا خادم ملا جس نے ایک صدی کے زمانہ تک اپنے علاقے میں آپ کے دین کی خدمت کی ہے۔کوئی آپ سے محبت اور پیار کرنے والا ایسا آدمی پیدا ہوا جس نے اپنی زندگی میں ایک چھوٹے سے علاقے میں بعض دفعہ چند گاؤں میں یا ایک شہر میں اسلام کی