خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 524

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۲۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب کس طرح بن سکتیں ہاں۔انہاں نے تے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دے نمونے نوں اپنی انکھاں نال ویکھیا سی وہ مایوس نہ ہوں وہ یہ نہ سمجھیں بلکہ روحانی رفعتوں کے دروازے ان کے لئے اس طرح کشادہ ہوں گے جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روحانی رفعتوں کے دروازے کشادہ کیے گئے تھے۔حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ نے اس مجمع کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تمہیں جو نصائح کر رہا ہوں اور جو وصیت تمہیں دے رہا ہوں تم جو اس وصیت کو سن رہے ہو تم یہ نہ سمجھنا کہ سوائے تمہارے اس پر کوئی عمل نہیں کر سکتا۔اس لئے تمہیں بہت سی نصائح کے بعد میں تمہیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ میری ان نصائح کو آنے والی نسلوں تک پہنچا دینا اور ان کو یہ بھی کہہ دینا کہ میں نے آج اس موقعہ پر انہیں یہ بشارت بھی دی تھی کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ آنے والے اس وقت سننے والوں کی نسبت میری نصائح پر زیادہ عمل کرنے والے ہوں۔صحابہ میں روحانی لحاظ سے مختلف درجات رکھنے والے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں جنہوں نے سب سے بلند روحانی درجہ حاصل کیا وہ آپ کے لئے بھی میسر آسکتا ہے۔بشرطیکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ اپنی زندگیوں پر چڑھائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور مجھے بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔دوست دعا کریں کہ غلبہ اسلام کا جو سورج اس عالمین پر طلوع ہو چکا ہے۔وہ (جیسا کہ خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے ) درجہ بدرجہ آسمان کی بلندیوں کی طرف بلند ہوتا چلا جائے اور جلد ہماری زندگیوں میں نصف النہار تک پہنچ جائے اور وہ چونکہ روحانی سورج ہے۔ہر لحاظ میں تو مماثلت نہیں ہوا کرتی تمثیل کہتے ہی اس وقت ہیں جب کہیں اختلاف بھی ہو ورنہ تو وہی چیز بن جاتی ہے۔یہ سورج تو حرکت میں ہے اور مسلسل حرکت کر رہا ہے جب یہ نصف النہار پر پہنچتا ہے تو ساتھ ہی زوال شروع ہو جاتا ہے لیکن روحانی سورج جب اپنے سفر میں آسمان کے بلند تر مقام پر پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی برکت سے وہاں ٹھہرتا ہے اور اس وقت تک ٹھہرا رہتا ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اسے حکم نہ دے۔خدا کرے کہ جب غلبہ ء اسلام کا یہ سورج بنی نوع انسان کو جو بشارتیں دی گئی ہیں ان بشارتوں کا یہ چاند نصف النہار تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ صدیوں اسے وہیں رہنے دے تا کہ اس کے سورج اور اس کے چاند سے انسان کی روحانی زندگی ہر لحاظ سے ترقی یافتہ اور یہی نہ