خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 523 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 523

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۲۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب میں اللہ تعالیٰ کے لئے حمد کے جذبات پیدا ہوئے اور جن سے ہمارے سینے معمور ہیں ان بشاشتوں کے ساتھ اور خدا کی حمد سے معمور سینہ اور دل اور روح کی اس آواز کے ساتھ کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کو زیب دیتی ہیں اور وہی اس کا مستحق ہے۔ساری تعریف کا مالک حقیقی اور سر چشمہ حقیقی اسی کی ذات ہے۔ان جذبات کے ساتھ اور ان الفاظ کے ساتھ ہی اس پاک اور بشاش اور خوشیوں سے بھر پور اور اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور جلسہ کے اختتام کا اعلان کرتا ہوں۔اب ہم دعا کریں گے۔دوست دعا کریں کہ یہ پیاری برادری جو ساٹھ ستر ہزار کی اس وقت ایک خاندان کی طرح یہاں بیٹھی ہے۔گویا مجھے زمین نظر نہیں آتی۔آپ سب میرے بھائی ہیں۔ایک بھائی کے سر پر سے میری نظر پھسل کر دوسرے پیارے بھائی کے سر پر جاپڑتی ہے۔خدا کرے یہ برادری ساری دنیا کے لئے ایک چھوٹی سی مثال بن جائے اور وہ وقت جلد آئے کہ جب ہم نگاہ تصور سے دنیا کو دیکھیں تو ساری دنیا ایک خاندان ، ایک جسم اور ایک وجود کی طرح ہمیں نظر آئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آدم اور آدم میں کوئی فرق نہیں انسان اور انسان میں کوئی امتیاز نہیں۔آپ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ملائیں اور فرمایا دیکھو دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے پر آجاتی ہیں تو ایک بن جاتی ہیں اسی طرح انسان انسان ایک ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مردہ بھی سنایا تھا۔حجتہ الوداع کے موقع پر جب آپ اپنی عمر میں آخری بار ایک بہت بڑے مجمعے سے خطاب فرما رہے تھے۔آپ نے صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے ساری دنیا کے لئے یہ اعلان فرمایا کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تم نے میرا قرب حاصل کیا۔میری زندگی کو، اس کے ہر شعبہ کو، اس کی ہر تفصیل کو اپنی آنکھوں۔دیکھا اور اسے اپنے لئے ایک نمونہ بنایا تم نے اپنی زندگیوں کو میرے اسوہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور تم میں سے بہت سے اس میں کامیاب ہوئے ، اس کے باوجود یہ نہ سمجھنا کہ بعد میں آنے والے تمہارے روحانی مقام تک نہیں پہنچ سکتے اور اس مقام کے دروازے بعد میں آنے والوں کے لئے بند کیے گئے ہیں اور جو دنیا کے دوسرے حصوں میں انسان بستے ہیں اور جو نسلیں بعد میں پیدا ہوں گی اور آنے والے زمانے میں وہ اپنے شعور کو پہنچیں گی۔وہ میری اور اللہ کی معرفت حاصل کریں گی۔قرآن کریم کا علم پائیں گی۔وہ مایوس نہ ہوں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اسیں صحابہ جیسے