خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 525 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 525

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۲۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب ہو کہ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا بلکہ یہ بھی ہوتا رہے کہ ہر نسل جو بعد میں آتی وہ صحابہ سے ملتی چلی گئی۔نسلاً بعد نسلاً خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گانے والے اور شرک کو مٹا کر اور پھر شرک کے ہر دروازے کو بند کرنے والی اقوام اس دنیا میں زندگی بسر کر رہی ہوں اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی بارش بن رہی ہوں۔میرا پیارا رب آپ کے ساتھ ہو یہاں بھی اور جب آپ اپنے گھروں میں جائیں وہاں بھی اور راستے میں بھی۔اللہ تعالیٰ آپ کو ہر چھوٹی اور بڑی تکلیف سے محفوظ رکھے اور ہر معمولی اور غیر معمولی شر سے آپ کو امان میں رکھے۔آپ فرشتوں کی حفاظت اور ان کے پہروں میں رہیں۔جہاں بھی آپ رہیں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بننے والے اور اس کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرنے والے، اپنی زندگیوں پر ایک فنا کو طاری کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے پیار کے لیے میں اپنی زندگیاں گزارنے والے رہیں۔جو باہر اس وقت ہمارے مبلغ کام کر رہے ہیں۔جو باہر ہماری جماعتیں ہیں خدا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور احمد مہدی کی عاشق اور محب۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی اسی طرح ہماری برکتوں کا وارث بنائے جس طرح کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں بنائے۔وہ دور میں مکان کے فاصلے کے لحاظ سے۔لیکن دلوں کے فاصلے میں دوری نہیں ہوتی۔ہم مکان کے لحاظ سے دور ہوتے ہوئے بھی اسی طرح دو انگلیوں کی طرح ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر آئی ہوتی ہیں اور ان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی ہماری برکتوں میں شامل کرے اور ہمیں بھی ان کی برکتوں میں شامل کرے۔ہم سب ایک جیسی برکتیں حاصل کرنے والے ہوں اور ہم اے ہمارے رب ! اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تیری برکتوں کا یہ دائرہ اسی طرح محدود ر ہے بلکہ آج جو عیسائی اور آج جو یہودی اور آج جو آریہ اور ہندو اور جو بدھ مذہب رکھنے والے یا بد مذہب اور دھریہ ہے۔اے خدا! تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ تیری محبت کے اس دائرہ میں وہ بھی داخل ہو جائیں اور جیسا کہ تو نے فرمایا ہے چند بد بخت ہی تیرے اس دائرہ محبت والفت ورضا سے باہر رہیں۔تیرے فضل کو دنیا حاصل کرے۔تیرے حسن کا جلوہ تمام بنی نوع انسان دیکھیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کو دنیا پہچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اپنا کر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگین ہو کر اس سے قریباً ویسا ہی پالیں جیسا کہ