خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 489
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸۹ لعرہ دیا ہے:۔إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف : ااا) ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب اس کے ذریعہ ہم تمہاری قوم کے دل جیت لیں گے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اگر اخلاص سے اور عملی نمونے کے ساتھ یہ نعرہ لگاؤ گے تو تم ہمارے دل جیت لو گے اور عملاً ان مکہ والوں کے دل جیتے ، جو تیرہ سال تک ہر قسم کا دکھ دیتے رہے تھے۔ان عرب قبائل کے دل جیتے جن کی قدر کسری اور قیصر جو اس وقت کی دو بہت بڑی مضبوط سلطنتیں تھیں یعنی جس طرح آج امریکہ روس یا چین ہے اس طرح وہ سلطنتیں تھیں ان کی نگاہ میں عرب کی قیمت یہ تھی کہ جب پہلی دفعہ مسلمان وہاں گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم ان کو تھوڑے سے پیسے دے دیتے ہیں۔پتہ نہیں شاید تمیں چالیس روپے فی کس کے حساب سے تھے یہ انہیں دے دیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ تم جاؤ اپنی عیش کرو یہاں کیا کرنے آئے ہو۔یہ ان کی نگاہ میں عربوں کی قیمت تھی لیکن اسلام نے اس ذلیل سمجھے جانے والی اور حقیر سمجھے جانے والی قوم کے دل پیار سے جیت لیے۔انہوں نے جواب میں یہی کہا اور اپنے عمل سے بھی یہی ثابت کیا۔میں نے اسی جلسہ میں بتایا تھا کہ مسلمان ان کو کہتے تھے کہ جو لوگ تمہارے ملک میں داخل ہوتے ہیں وہ موت سے، اس سے زیادہ پیار کرتے ہیں جتنا تم اپنی زندگی سے پیار کرتے ہو۔اس واسطے بچ کے رہنا۔موت سے زندگی کی نسبت کون زیادہ پیار کرتا ہے؟ سوائے اس شخص کے کہ جس نے اپنے رب کی نگاہ میں پیار اورمحبت دیکھی ہو۔کوئی شخص موت سے زندگی کے مقابلے میں زیادہ پیار نہیں کر سکتا۔انہوں نے اپنے رب کی نگاہوں میں پیار دیکھا ، رضا دیکھی ، محبت دیکھی، اس کی عظیم قدرتوں کے جلوے اپنی حفاظت کے لیے اپنی تکالیف کے دور کرنے کے لیے دیکھے۔اس کی پیار بھری آواز کو سنا۔اس کے بعد کیا وہ موت سے ڈر سکتے تھے۔موت تو ان کے لیے ایک کھلونا بن کر رہ گئی تھی۔پس دوسرا عظیم وسیلہ جو ایک احمدی کے ہاتھ میں آج تمام دنیا کے دل جیتنے کے لیے دیا گیا ہے وہ مساوات انسانی کا وسیلہ اور ذریعہ ہے اور یہ شرف انسانی کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے اور تیسرے نمبر پر آ جاتا ہے دکھوں کو دور کرنا یعنی ہمدردی اور غم خواری کرنا۔در اصل دو قسم کے دکھ ہوتے ہیں جن کو دور کیا جاتا ہے اور آگے ان کا طریق بھی مختلف ہو