خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 488
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب محروم رہے ہیں۔اس حد تک کہ وہ تو اپنے تصور میں بھی یہ بات نہیں لا سکتے تھے کہ کوئی ایسا شخص بھی افریقہ سے باہر پیدا ہو سکتا ہے جو ان سے پیار کرے ان کے بچوں سے پیار کرے۔قرآن کریم کے مطابق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الکھف: 1)‘ اور صرف فرمایا ہی نہیں بلکہ خدا تعالی نے فرمایا کہ ساری دنیا میں اعلان کر دو کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔بشر ہونے کے لحاظ سے دنیا میں اس وقت کتنے فرق پیدا ہو گئے ہیں اور اس کے نتیجہ میں کتنی خرابیاں پیدا ہوئیں۔کتنے اطمینان اور سکون تھے دلوں کے جو چھین لیے گئے۔حقارت کی ایک نگاہ ڈال دی اور بے چین کر دیا جس پر یہ نگاہ پڑی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ہمیں بڑے زور اور شدت کے ساتھ یہ سبق دیا ہے کہ کسی کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا۔اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو محبت اور پیار اور رضا کی نگاہ سے دیکھے تو پھر آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی پیدا کردہ مخلوق میں سے ہر ایک کو پیار اور محبت اور رضا کی نگاہ سے دیکھیں ورنہ آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کیسے رضا اور پیار کو دیکھ سکتے ہیں۔پس دوسرا ذریعہ بنی نوع انسان کے دلوں کے جیتنے اور تمام اقوام عالم کو ملت واحدہ بنادینے کا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اور آپ کے طفیل ہمارے ہاتھ میں اللہ تعالی نے مساوات انسانی کا وسیلہ دیا ہے۔اب جیسا کہ میں نے بتایا ہے مختلف ممالک اور مختلف نسلیں اور مختلف دور اور مختلف زمانے گزرے ہیں لیکن کسی جگہ کسی زمانے میں کوئی شخص پیدا ہو، اگر وہ مجنون نہیں تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ إنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ کا جو نعرہ ہے یہ انسانوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرے گا انہیں جیتے گا؟ نہیں۔یہ کوئی نہیں کہے گا۔اگر کوئی کہے گا تو دوسرا یہ سمجھے گا یہ پاگل ہو گیا ہے یہ تو کوئی شخص کہ ہی نہیں سکتا۔یہ تو انسانی فطرت کے خلاف ہے۔یہ کیساز بردست ہتھیار ہے۔میں اس وقت اصولی ہتھیاروں کو لے رہا ہوں جو ہر ملک ہر قوم اور ہر زمانے میں ایک جیسے کارگر وار کرنے والے ہیں۔اب یہ نعرہ ایسا ہے کہ آپ کسی ملک میں چلے جائیں اور وہاں کے لوگوں سے کہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کے دل جیتنے کے لئے ہمیں یہ