خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 490
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب نا ہے۔ایک دکھ اور درد اور مصیبت حق کے غصب ہو جانے سے پیدا ہوتی ہے۔مثلاً میں نائیجیریا میں گیا تو ابھی دو تین دن ہی ہوئے تھے کہ میں نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے نائیجیریا میں بسنے والوں کو ضرورت کی ہر چیز دے دی تھی لیکن وہ جو عیسائیت کا پیغام لے کر اور اپنی فوجوں کو پوری طرح مسلح کر کے داخل ہوئے تھے انہوں نے ان بیچاروں سے ہر چیز چھین لی۔میں نے اپنے ایک افریقن دوست سے کہا کہ میں نے تو یہ محسوس اور مشاہدہ کیا ہے کہ خدا نے تمہیں ہر چیز دی تھی مگر تم ہر چیز سے محروم کر دیئے گئے۔تو اس نے کہا ٹھیک ہے۔اگلے دن ان کا جو ہیڈ آف دی سٹیٹ ہے یعقو بو گوون اس سے ملاقات ہوئی۔وہ بڑا اچھا آدمی ہے عیسائی ہے لیکن دل کا بڑا نیک انسان ہے۔مسلمانوں کے حقوق کا بڑا خیال رکھتا ہے۔باتوں باتوں میں میں نے اس سے کہا کہ آپ کے ملک میں آ کر اور آپ کے حالات دیکھ کر میرے دل پر جو پہلا اور بڑا گہرا تاثر پیدا ہوا ہے اور جس کا کل میں نے اپنے ایک افریقین دوست سے اظہار بھی کیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز دی تھی مگر آپ کو ہر چیز سے محروم کر دیا گیا۔تو وہ میری بات سن کر کہنے لگا:۔How true you are! how true you are! اس نے دو دفعہ یہ کہا۔کتنی سچی بات آپ کہہ رہے ہیں کتنی سچی بات آپ کہہ رہے ہیں۔غرض ایک محرومی اور دکھ اور درد اور پریشانی اور مصیبت اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ کسی شخص کے حقوق غصب کر لئے جاتے ہیں اور ایک دکھ اور درد اور تکلیف اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو آزمانا چاہتا ہے مثلاً حوادث زمانہ ہیں۔حادثہ ہوا کوئی عزیز فوت ہو گیا یا کوئی بچہ مرگیا یا خاوند حادثہ کا شکار ہو گیا یا قحط آ گیا یا زلازل آگئے یا جس طرح مشرقی پاکستان میں ہوا ہے وہاں طوفان آ گیا ہے۔پس دو قسم کے دکھ اور درد ہوتے ہیں جن میں بنی نوع انسان مبتلا نظر آتے ہیں جو محروم کیے جانے کے نتیجہ میں دکھ اور درد پیدا ہوتا ہے اس کا یہ علاج ہے کہ جو غاصب ہے اس سے مال لے کر جو حق دار ہے اسے پہنچا دیا جائے۔تو اس طرح یہ دُکھ دور ہو جائے گا۔اسلام نے اس سلسلہ میں جو حسین تعلیم پیش کی ہے اور پہلے زمانہ میں لوگوں نے اس پر عمل بھی کیا ہے۔ہم نے انشاء اللہ ساری دنیا میں اس کے مطابق عمل کرنا اور کروانا ہے اسلام کی اس حسین تعلیم پر میں نے بڑا غور کیا ہے میں