خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page v of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page v

رکھنا چاہے گا۔اس کا قادر و توانا اور قومی ہاتھ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا اور جس طرف بھی خدا تعالیٰ میری رہنمائی فرماتے ہوئے جماعت کو ترقی کے لئے لے جانا چاہے گا اس میں برکت ہوگی اور اگر کوئی شخص اس راستہ کو چھوڑے گا تو وہ ناکام رہے گا۔اس لئے نہیں کہ مجھ میں کوئی خوبی یا طاقت ہے بلکہ اس لئے کہ جس وجود نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے تمام خوبیاں اور طاقتیں اس کو حاصل ہیں وہ ہمیں کامیاب کرے گا اور میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ ساری جماعت کو جو یہاں بیٹھی ہوئی ہے اور تمام دنیا کو جہاں کہ آج کی آواز پہنچے یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ پچیس تمیں سال کے اندر دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی اس روحانی انقلاب کو روک نہیں سکتیں۔“ (صفحہ ۷۳ تا ۷۵ جلد ھذا) (۴) ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء کو جلسہ سالانہ کے دوسرے روز اپنے خطاب میں فرمایا:۔آپ میں سے ہر شخص کی خواہش، تمنا اور دعا ہے کہ مثلاً سیرالیون سارا احمدی ہو جائے ، مثلاً غاناسارا احمدی ہو جائے ،مثلاً گیمبیا سارا احمدی ہو جائے ،مثلاً نائیجیر یاسا را احمدی ہو جائے۔وہ کون سا ملک ہے جس کے احمدی ہو جانے کے متعلق آپ کے دل میں خواہش نہ ہو اور اس کے لئے آپ کی دعا نہ ہو جس وقت وہ ملک احمدی ہو گیا اور اس کی مالی قربانیاں آپ سے بڑھ گئیں اس دن وہ کہے گا نظام ہمارے ہاتھ میں دو یا ہمارے مقابلہ میں آکے قربانیاں دو۔تو قبل اس کے کہ ایسا دن آئے کہ آپ کے ہاتھ سے یہ فضیلت چھین لی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کا نظام آپ کے ہاتھ میں دیا ہے اور آپ کے ہاتھ سے چلا رہا ہے ان باتوں کی طرف توجہ دو اور اپنی قربانیوں کے معیار کو اور قربانیوں کی رفتار کو بڑھاؤ مل کے سب نے ایک تنبیہ ہمیں کر دی ہے۔وارننگ سگنل بلند ہو چکا ہے اس کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔(صفحہ ۱۱۴ جلد ھذا ) (۵) ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء کو جلسہ سالانہ کے اختتامی خطاب کے دوران فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ اسلام کو تمام ادیانِ عالم کے مقابلہ میں غالب کرے گا اور اگر سارے مذاہب کے سر براہ اور ان کے علماء اور ان میں منتقی قرار دیئے جانے والے اور بزرگ اور نیک اکٹھے ہو جائیں تمام مذاہب کے اور وہ میرے مقابلہ پر آ کر کھڑے ہوں۔وہ ایک چیز کے مستحق دعا کریں اور میں بھی اس کے متعلق دعا کروں تو ان تمام بزرگوں کی دعائیں رد کر دی جائیں گی اور میری دعا قبول