خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page vi of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page vi

۴ ہو جائے گی۔اسی طرح آج میں یہ کہتا ہوں۔۔۔۔۔جو ایک نہایت ہی ادنی خادم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہوں اور آپ کے آقا ومطاع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں۔اکیلا دعا کروں گا اور اس وجہ سے نہیں کہ میں کوئی چیز ہوں بلکہ اس کے لئے کہ اسلام خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک بہت بڑی صداقت ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کے خلفاء کی مدد کے لئے آسمان سے اترا کرے گا۔میں آج اس بات کو دہراتا ہوں کہ اگر آپ سب کے مقابلہ میں میں اکیلا دعا کروں گا تو اللہ تعالیٰ میری دعا کو قبولیت بخشے گا اور آپ کی دعاؤں کو ر ڈ کر دے گا۔“ (صفحہ ۱۵۹،۱۵۸ جلد ھذا) (۲) ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء کو جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کے خطاب کے دوران فرمایا:۔ا بھی میں نے اسلام کے اقتصادی نظام کے اصول اور اس کے فلسفہ پر جو خطبات دیئے تھے جس وقت میں یہ خطبات دے چکا تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ اکثر احمدی تو مذہب سے دلچسپی رکھتے ہیں اور ان خطبات میں جو مختلف مذہبی پہلو بیان ہوئے ہیں۔جن کی بنیاد پر آگے اقتصادی اصول قائم کئے گئے ہیں وہ بڑے شوق سے پڑھیں گے اور بڑی لذت محسوس کریں گے لیکن دوسرے لوگ خصوصاً غیر مسلم جو ہیں ان کو تو مذہب یا اسلام یا قرآن سے دلچسپی نہیں وہ شاید bore یعنی اُکتا جائیں اس لئے ان سارے خطبات کا ایک خلاصہ بیان کر دینا چاہئے جس میں صرف اصول بتا دیئے جائیں۔اس کی حکمتیں اور وہ روحانی بنیاد جن کے اوپر ان کو قائم کیا گیا ہے اس کو چھوڑ دیا جائے اور جو تعلیم ہے اور جو اس کا فلسفہ ہے وہ بیان کر دیا جائے اور یہ دراصل خلاصہ ہوگا ان خطبات کا۔چنانچہ میں اس وقت بہت دعا کر رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ جو کچھ تم نے ان چودہ خطبات میں بیان کیا ہے یہ سارا مضمون سورۃ فاتحہ میں پایا جاتا ہے۔تم سورۃ فاتحہ کی اقتصادی تفسیر بیان کر دینا تو ان خطبات کا خلاصہ آجائے گا۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو سورۃ فاتحہ کی اقتصادی تفسیر بھی آجائے گی۔“ ( صفحه ۳۵۴،۳۵۳ جلد هذا ) ( ۷ ) ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۳ء کو جلسہ سالانہ کے دوسرے روز اپنے خطاب میں فرمایا:۔گیمبیا میں اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کہا کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ ان ممالک میں ان کی خدمت کے لئے خرچ کرو۔جب میں وہاں سے واپس آیا تو پہلا ملک جہاں افریقہ سے باہر ٹھہرا