خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page iv
۲ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے قیام اور غلبہ اسلام کے لئے جو تحریک اور جو جد و جہد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شروع کی تھی اور جسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے آرام کھو کر اپنی زندگی کے ہر سکھ کو قربان کر کے اکناف عالم تک پھیلایا ہے۔آپ اس جد و جہد کو تیز سے تیز تر کرتے چلے جائیں گے۔میری دعا ئیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں اور میں ہمیشہ آپ کی دعاؤں کا بھوکا ہوں۔میں نے آپ کی تسکین قلب کے لئے ، آپ کے بار ہلکا کرنے کے لئے ، آپ کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے اپنے رب رحیم سے قبولیت دعا کا نشان مانگا ہے اور مجھے پورا یقین اور پورا بھروسہ ہے اس پاک ذات پر کہ وہ میری اس التجا کور د نہیں کرے گا۔(صفحہ ۲۱ جلد ھذا) ہے (۲) ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء کو اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کے خطاب میں فرمایا:۔مامور اور نبی اپنی جماعت کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور ان کا تزکیہ نفوس کرتا ہے اور یہی کام ان کے بعد ان کی نیابت میں ان کے خلفاء کو کرنے پڑتے ہیں اور یہی ان کی اصل ذمہ داری ہوتی ہے۔اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے ایک جماعتی نظام قائم کیا جاتا ہے اور جہاں تک عزم اور فیصلہ کا تعلق ہے۔اس نظام کی پوری ذمہ داری خلیفہ وقت پر ہوتی ہے اور یہ ذمہ داری نہایت نازک ہے اور ذمہ داری کے نبھانے میں خلیفہ وقت کو جماعت سے دو بنیادی باتوں کی توقع ہوتی۔(اول) جماعت کے مخلصانہ مشورے ( دوم ) ان کی دعائیں اور جس طرح مجھ سے پہلے خلفاء جماعت سے ان دو بنیادی باتوں کی توقع رکھتے تھے۔اس طرح میں بھی ان کی توقع رکھتا ہوں کیونکہ ان کے بغیر خلافت کے اہم کام کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکتا پس آپ کے مخلصانہ مشوروں اور پُر سوز دعاؤں کی مجھے بہت ضرورت ہے اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ یہ دونوں چیزیں مجھے آپ کی طرف سے ملتی رہیں گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔“ (صفحہ ۱۱ ۱۲ جلد هذا) (۳) ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء کو اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر اختتامی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔میرے جیسا انسان اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے کن الفاظ میں پیش کرے لیکن اس تمام نیستی کے باوجود جو میں اپنے نفس میں اپنے لئے پاتا ہوں۔میں یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس مقام پر کھڑا کیا ہے اس مقام کی حفاظت کا ذمہ خود اس نے لیا ہے اور جب تک وہ مجھے زندہ 66 ---