خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 470 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 470

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء)۔۴۷۰ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار یہ مبالغہ نہیں کر رہا۔خلیفہ تو میں اب بنا ہوں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہو گیا۔پچھلے تمہیں سال سے میرے سوچ و بچار میں یہ ہے اور میں اُس وقت بھی کہا کرتا تھا کہ ساری دنیا کی دولت ایک احمدی کی قیمت بھی نہیں بنتی۔دنیا تمہیں نہیں پہچانتی اور تمہیں اس کا کوئی فکر نہیں ہونا چاہئے۔اللہ جس نے تمہیں وہ بنایا جو تم ہو ، جب اس کی محبت تمہیں مل جاتی ہے تو اور کا خیال کوئی نہیں۔لیکن دنیا تمہیں پہچانے گی ، اس لئے نہیں کہ دنیا کی عزتوں کی خواہش تم رکھتے ہو ، نہ اس لئے کہ دنیا کا اقتدار تم حاصل کرنا چاہتے ہو۔دنیا اس لئے تمہیں پہچانے گی کہ خدا نے کہا کہ میں نے تمہیں دنیا کا خادم بنایا اور کوئی آتا ہے جو اپنے خادم کو نہیں پہچانتا پھر اچھے خادم کو۔تم تو دنیا کے اچھے خادم ہو۔آج نہیں تو کل دنیا تمہیں پہچانے گی۔اس واسطے میں بار بار کہ رہا ہوں کہ دنیا تم سے جو مرضی ہے دشمنی کرتی رہے تم کسی کے دشمن نہیں ہو۔تم تو خادم ہو اور خادم کو آقا بہر حال پہچانتا ہے اور اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ہمیں اس کی ضرورت نہیں لیکن اپنے وقت پر یہ چیز ہمیں مل جائے گی۔انشاء اللہ تعالی۔فضل عمر فاؤنڈیشن کی ساری دنیا کی وصولی بتیس لاکھ چونسٹھ ہزار تھی۔کل نفع نقدی کی صورت میں چار لاکھ چھ ہزار ہے کیونکہ بہت ساری رقم یہ نفع آور کاموں پر لگاتے ہیں۔کیپیٹل ایپریشی ایشن (Capital Appreciation) یعنی بعض چیزیں جو خریدی گئیں اور ان کی اس وقت قیمت بڑھ چکی ہے یا کچھ شیئر (Share) خرید کے اور ان کی قیمتیں بڑھ گئیں۔اس لحاظ سے نفع چار لاکھ ستاسی ہزار ہے۔لندن میں وہاں کے چندے کی ان ویسٹ منٹ (Investment) کی گئی تھی۔دو مکانات خریدے جاچکے ہیں اور ایک کے خریدنے کا انتظام ہو رہا ہے۔لائبریری کی سکیم تھی۔آپ نے دیکھا ہو گا بڑی خوبصورت بن رہی ہے اور اس کے لئے ہم کتابوں کا بھی سوچ رہے ہیں۔جو آیات قرآنی میں نے پڑھی تھیں۔ہمیں اس طرف بڑی توجہ کرنی پڑے گی۔اتنا تو ہمارے پاس ابھی مال نہیں اس واسطے جن دوستوں کو میں نے کتابوں کی رستیں بنانے پر لگایا ہے ان کو میں نے کہا ہے کہ ایک یا دو مضمون لے لو۔اُن مضامین سے متعلق دنیا کی بہترین اور اس کثرت سے کتابیں ہوں کہ پاکستان میں اس مضمون میں جو بھی دلچسپی لے اُس کو مجبور ہو کر ہمارے پاس آنا پڑے اور پاکستان میں اور کہیں وہ کتاب نہ ملے۔انشاء اللہ ایسا