خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 469
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۶۹ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار پچاس ہزار پاؤنڈ کے قریب پہنچ گئے۔یہ تو خیر بعد کی بات ہے لیکن وہاں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ جماعت مری نہیں۔جس کے جسم میں خون نہیں ہوتا وہ بلڈ بنک میں جا کر خون کا عطیہ نہیں دیا کرتا۔اس جسم میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمتوں کا خون ہے۔جب بھی اللہ تعالیٰ کا نظام اپنے بلڈ بنک کے لئے ان سے خون طلب کرے گا۔یہ خون دیں گے۔یہ تو وہ تھے جو کہتے تھے کہ جماعت مرگئی کیونکہ ان کا وہ امام نہیں رہا جس کی وجہ سے وہ زندہ تھے۔پھر وہ لوگ جو کہتے تھے کہ جماعت مرجائے گی کیونکہ ایک نا اہل امام بنا دیا گیا۔ان کے لئے خدا نے اب میرے دماغ میں نصرت جہاں ریز روفنڈ کی تحریک ڈالی۔میں ایک مثال دے رہا ہوں۔اس وقت جبکہ کہا گیا تھا کہ جماعت مرگئی تو انگلستان کی چھوٹی سی جماعت نے اکیس ہزار پاؤنڈ یعنی چار لاکھ روپے سے اوپر چندہ دیا۔جیسا کہ میں نے کہا انہوں نے خون کا عطیہ دیا اور جس جماعت کو کہا تھا کہ یہ مر جائے گی کیونکہ امام نا اہل اور بالکل ناکارہ ہے، اس جماعت کو پانچ سال کے بعد اس شکل میں دکھایا کہ بس ہزار پاؤنڈ سے چھلانگ لگا کر وہ پچاس ہزار پاؤنڈ تک اپنی قربانی میں علاوہ لازمی چندوں کے پہنچی ہوئی تھی۔خدا نے کہا کہ میں حیسی و قیوم ہوں۔میں زندہ کرتا، زندہ رکھتا اور قائم رکھتا ہوں۔میں نے تمہیں یہ طاقت نہیں دی کہ تم کسی کو زندہ کر سکو یا زندہ رکھ سکو۔میں نے اپنے مسیح کو ان بشارتوں کے مطابق کہا جو میں نے اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھیں کہ ایسی جماعت دوں گا جن کی زندگی میں خود بنوں گا اور جن کا سہارا میں ہوں گا۔انسان تو عاجز ہے۔اس کو اپنے عجز کا ہی اقرار کرنا چاہئے لیکن اس عاجز انسان کو اللہ تعالیٰ کو عاجز قرار نہیں دینا چاہئے نہ اس کو عاجز ہونے کا اعلان کرنا چاہیے۔جب دنیا یہ کہتی ہے کہ خدا عاجز ہے تو خدا اپنی قدرت کا نظارہ دکھاتا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن:۳۰) ہر روز ایک نئی شکل میں وہ ہمارے سامنے آتا ہے۔غیر محدود قدرتوں کا مالک ہمیں غیر محمد ودجلوے دکھاتا ہے۔ہم نے تو اپنی ان آنکھوں سے اپنے پیدا کرنے والے رب کو دیکھا ہے اور اس کی عظمت اور جلال کو اپنے خون کی رگوں میں بہتے ہوئے دیکھا ہے۔دنیا کے نعروں کا جماعت پر کیا فرق پڑا یا کیا پڑسکتا ہے۔جب کہ میں نے بتایا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہی اس مقام پر کھڑا کرے۔میں