خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 471
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ہو جائے گا اور ہر سال ترقی ہوتی چلی جائے گی۔۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار عیدین کے خطبات کی پہلی جلد شائع ہو چکی ہے ، یہ بھی دوست خریدیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوانح حیات کا مسودہ قریباً تیار ہے۔علمی اور تحقیقاتی تصانیف کا مقابلہ ہر سال ہوتا ہے۔اس سال کے انعامی مقابلہ میں گیارہ مقالہ جات کے وعدے ہیں جن میں سے تین مقالے موصول ہو چکے ہیں باقی کو بھجوانا چاہیے۔زیادہ دوستوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت دوست صرف اس خیال سے اس میں حصہ لیتے ہیں کہ شاید ہمیں انعام مل جائے۔ایک ہزار روپیہ انعام کی لالچ نہ کریں۔جو اس طرف متوجہ ہوں گے ان کا علم بہت بڑھے گا۔کئی ہزار احمدی بی۔اے ہے۔یعنی بی۔اے یا بی۔اے سے او پر جس کی تعلیم ہے مثلاً ایم۔اے یا ڈاکٹر وغیرہ یا جو اس سے زیادہ تعلیم سبھی جاتی ہے، ان کو توجہ کرنی چاہیے۔انعام ملے یا نہ ملے۔تحقیق کے بعد، بڑی محنت سے راتوں کو جاگ کر اور کتب پڑھ کر مقالہ لکھنا یہ خود ایک انعام ہے۔وقف عارضی وقف عارضی کے نئے فارم دو ہزار تین کے پہنچ چکے ہیں۔یہ بڑی مفید اور اچھی سکیم ثابت ہوئی ہے۔بڑی مؤثر ہے اور اس کے بڑے اچھے اثر نکل رہے ہیں۔گذشتہ سال مردوں کے بائیس سو چون وفود بھجوائے گئے ( یعنی پنتالیس سو افراد پر مشتمل ایک وفد دو واقفین پر مشتمل ہوتا ہے۔بعض دفعہ ایک رہ جاتا ہے لیکن دو ہی جاتے ہیں اور بنائے بھی دو ہی جاتے ہیں۔مستورات کے پانچ سوسات وفود بھجوائے گئے۔مستورات کے لئے ہم نے یہ قانون بنایا ہے کہ ان کو ا کیلئے نہیں بھیجنا، نہ ایک نہ دو، وقف عارضی پر یا تو عورت اپنے بھائی کے ساتھ جائے لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اپنے خاوند کے ساتھ جائے یا ہم ان کو ان کے اپنے شہر اور حلقے میں لگا دیتے ہیں اور اپنے ؟ گھر میں رہ کر وہ کام کرتی ہیں۔مردوزن ہر دو کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔وقف بعد ریٹائر منٹ ایک سو چودہ دوستوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد وقف کیا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ ان میں سے اکثر نو جوان ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ریٹائر ہونے کے بعد آج سے پندرہ یا بیس سال بعد وہ