خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 433
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب بتا تا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود کہ کسی ماں نے نہ ویسا جنا اور نہ جنے گی، وہ جو صفات باری کے جلوے اپنے اندرا کٹھے کئے ہوئے تھا ، وہ جو خدا تعالیٰ کے نور اور اُس کا مظہرِ اتم تھا وہ جو اپنے وجود میں پوری کی پوری صفات باری انعکاس کر رہا تھا اُس وجود کے منہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ کہلوایا۔أنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الكهف : 111) یعنی بطور بشر کے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے۔تمام انبیاء علیہم السلام نے۔س نے ہی جو کچھ پایا وہ آپ کے فیض سے پایا۔اصل میں ہر خیر اور نیکی کا منبع حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔اس لئے وہ جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل رُوحانی مدارج کو حاصل کیا ، وہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت تھے جیسے موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام، یہ اور ان کے ماننے والے آپ پر کسی برتری کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔جب میں یہ کہتا تھا تو اُس وقت پادری جو وہاں بیٹھے ہوتے تھے وہ اُچھل پڑتے تھے اور بڑے پریشان ہو جاتے تھے یہ اعلان انہیں قتل کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر دلوں کو جیتنے کے لئے تھا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس میں تمام صفاتِ حسنہ جمع ہیں اور کوئی عیب اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔وہ تمام نقائص اور بُرائیوں سے منزہ ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ کچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر خیر اور خوبی اور بھلائی کا سرچشمہ ہے۔آپ نے بڑی وضاحت سے فرمایا ہے کہ پانی آپ لوگوں کی پیاس نہیں بجھا تا یہ تو اللہ تعالیٰ کے حُسن کا ایک جلوہ ہے جو آپ کی پیاس بجھاتا ہے۔جس وقت پانی میں وہ جلوہ نہ ہو تو پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے اور وہی پانی انسان کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔گندم یا دوسری غذا میں آپ کا پیٹ نہیں بھرتیں ، خدا کے حُسن کے جلوے آپ کا پیٹ بھرتے ہیں۔یہ ہوا جس پر ہماری زندگی کا مدار ہے، جس میں ہم سانس لیتے جس سے آکسیجن لیتے ہیں اس ہوا میں اپنی ذاتی کوئی خوبی نہیں ہے کہ انسان کی بقا اور حیات کا سامان پیدا کرے یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں جو اس ہوا میں چھپے ہوئے ہیں۔اس ہوا کے ذریعہ جب وہی جلوے ہمارے